تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 174 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 174

تاریخ احمدیت۔جلد 26 174 سال 1970ء ہے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا باعث بن سکتا ہے جب انسان اس کے تمام تقاضوں کو پورا کرے اور یہ تقاضے پورے نہیں ہو سکتے جب تک اللہ تعالیٰ کی صفات کی حقیقی معرفت حاصل نہ ہو۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے انتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ ( آل عمران : ۱۴۰)۔یہاں مومن کے لفظ میں پختہ ایمان کے علاوہ اس کے تمام تقاضوں سے عہدہ برآ ہونا مراد ہے۔جس سے اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رحمت اور نصرت ملتی ہے۔صحابہ کرام جو ایمان پر پختگی سے قائم تھے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت اور اس کے وعدوں پر پوری طرح یقین رکھتے تھے۔وہ صحرائے عرب سے ایک سیل رواں بن کر نکلے جس کے سامنے کسریٰ اور قیصر کی زبر دست بادشاہتیں خس و خاشاک کی طرح بہہ گئیں۔ایمان کے تقاضوں میں سے سرفہرست اللہ تعالیٰ پر حقیقی ایمان ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ پر حقیقی ایمان لانا چاہیے اس کی صفات حسنہ کی کامل معرفت حاصل کرنی چاہیے اور ہر حال میں راضی بالقضاء اور اس کی حمد کرتے رہنا چاہیے۔یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ اگر کبھی ایک فصل ژالہ باری کی نذر ہو جاتی ہے تو اگلی فصل میں اللہ تعالیٰ غیر معمولی برکت رکھ دیتا ہے۔اس لئے انسان کو اپنی محنت پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔کھیتی وہی اُگتی اور پھل لاتی ہے جسے اللہ تعالیٰ اُگا تا اور ثمر دار بناتا ہے۔اس روز بھی نماز مغرب کے بعد حضور تھوڑی دیر تک اپنے ارشادات سے احباب کو مستفید فرماتے رہے۔فرمایا۔اسلام نے اقتصادیات کا اصل الاصول یہ بیان فرمایا ہے کہ جس کے پاس کچھ نہیں ہے اسے وہ سب کچھ دیا جائے جو اس کی جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی قوتوں کی نشو و نما کے لئے ضروری ہے اور جس کے پاس کچھ ہے اس سے زبردستی چھینا نہ جائے اگر اس پر عمل ہونے لگے تو نہ معاشرتی اونچ نیچ کا چر چار ہے اور نہ قابل ذہنوں کا ضیاع ہو۔۱۵/ اگست۔مغرب کی نماز کے بعد حضور انور تھوڑی دیر ا حباب میں تشریف فرما ر ہے۔اس موقعہ پر حضور نے بیرونی مشنوں کی طرف سے بعض اطلاعات پر خوشی اور اطمینان کا اظہار فرمایا نیز 130 حضور انور نے افریقن ممالک میں زیادہ سے زیادہ قربانیاں پیش کرنے کی تحریک فرمائی۔۱۶ اگست - آج مقامی جماعت کے علاوہ مانسہرہ ، واہ ، ہری پور، کراچی، ربوہ ، باندھی سندھ، راولپنڈی، اسلام آباد اور پشاور کے کثیر احباب ملاقات کے لئے تشریف لائے۔نیز دو بجے پشاور کی جماعتوں کے قریباً پونے چار سو احباب کو جو اپنے امیر جماعت مکرم محمود احمد خان صاحب کی سرکردگی میں چھ پیشل بسوں پر تشریف لائے تھے انہیں حضور نے اجتماعی ملاقات کا موقعہ دیا۔