تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 175 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 175

تاریخ احمدیت۔جلد 26 175 سال 1970ء بعد از نماز ظہر و عصر حضور نے احباب جماعت کو اپنے بیش بہا ارشادات اور مواعظہ حسنہ سے مستفید فرمایا۔حضور نے اس موقعہ پر مکرم محمد صدیق صاحب شاہد مربی سلسلہ پشاور کو یاد فر مایا اور ان سے تبلیغی اور تربیتی امور کے متعلق دریافت فرمایا۔حضور انور نے فرمایا یہ عجیب بات ہے کہ ہم اپنے دنیوی کام کاج میں تو پوری دلچسپی کے ساتھ ہمہ تن مصروف اور ان میں پورے جوش و خروش کے ساتھ آگے بڑھنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔مگر احمدیت کی تبلیغ کا حق ہم پوری طرح ادا نہیں کرتے۔اس سلسلہ میں نہ تو ہم وہ قربانی دیتے ہیں اور نہ وہ سرگرمی دکھاتے ہیں جو تبلیغ کے لئے ضروری ہے۔اور پھر جہاں تھوڑا بہت تبلیغ کا کام ہو رہا ہے اسے بعض مصلحتوں کے پیش نظر کما حقہ موثر بنانے میں پس و پیش رہتا ہے۔فرمایا ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔دین کو دنیا پر مقدم کرتے ہوئے تبلیغ سے کسی دم غافل نہیں ہونا چاہیئے۔البتہ تبلیغ کے لئے قربانی، جرات، ہوشمندی اور سب سے بڑھ کر اچھے نمونے یعنی باہمی پیارو محبت، ایثار و قربانی اور ہمدردی و غمخواری کی ضرورت ہے۔اگر یہ جذبہ اور تبلیغ کی ایک لگن اور جنون ہمارے اندر پیدا ہو جائے اور دوسروں کے لئے اپنے دل میں درد اور ان کے لئے اضطرار اور ابتہال کے ساتھ دعائیں کی جائیں تو ہماری یہ کوششیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری یہ دردمندانہ دعا ئیں کبھی رائیگاں نہیں جاسکتیں۔سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے حضور انور نے فرمایا کہ افریقہ کے بعض ملک قربانی اور اخلاص میں ہم سے بہت زیادہ آگے نکل گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ یہ نہیں دیکھتا کہ کوئی سیاہ فام ہے یا سفید فام۔وہ تو بلا امتیاز رنگ و نسل اس قوم یا فرد کو اپنے قرب سے نوازتا ہے جو اس کے حضور سچے دل سے قربانی پیش کرتا اور اس کی رضا کے لئے دکھ اٹھاتا ہے۔افریقہ میں اسلام کی تبلیغ کے لئے سازگار حالات اور اسلام کی ترقی کے غیر معمولی سامان پیدا ہونے کا تفصیل سے ذکر کرنے کے بعد حضور نے فرمایا مجھے اب اِدھر کی فکر پڑی ہوئی ہے کیونکہ توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔اس لئے ہمیں یہاں بھی مخالفت کی پرواہ کئے بغیر پوری سرگرمی اور جوش و خروش کے ساتھ تبلیغ کرنی چاہئے۔فرمایا دنیا اسی سال سے اس بات پر خوش ہے کہ اس نے احمدیوں کو کافر کہہ لیا اور ہم اسی سال سے اس بات پر خوش ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی عطا ہو رہی ہے۔اور اس کی نگاہ میں ہم کا فرنہیں مسلمان ہیں اور وہ جو دلوں کے بھید جانتا ہے وہ ہمارے دل اپنی محبت سے لبریز دیکھتا اور اپنا محبوب بنالیا ہے۔پھر غیر کی ہمیں پر واہ کیا ہے۔