تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 173 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 173

تاریخ احمدیت۔جلد 26 173 سال 1970ء انتظام فرمایا ہے یہی وہ عظیم الشان کام ہے جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے اس کام کی سرانجام دہی کے لئے ہر طرح کی مالی اور جانی قربانیوں کے علاوہ یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ ہم ہر وقت دعاؤں میں لگے رہیں۔نماز جمعہ پڑھانے کے بعد حضور نے سب احباب کو شرف مصافحہ بخشا اور پھر ایبٹ آباد تشریف لے آئے۔۲۹ جولائی تا ۵ اگست۔ان ایام میں حضور دارالہجرت ربوہ میں قیام فرما ر ہے اور اس جولائی کو مسجد مبارک ربوہ میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔جس میں بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ تمام اقوام عالم کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کر کے ایک وحدت میں منسلک کرنے کے لئے جو مہم جاری ہے اس کا ایک اہم محاذ مغربی افریقہ ہے جہاں خلافت حقہ کے ذریعہ آسمانی اور الہی تائید و نصرت کے بہت سے نشانات ظاہر ہورہے ہیں اس کا یہ تقاضا ہے کہ ہم مالی اور جانی میدان میں انتہائی قربانیاں پیش کریں۔یکم اگست کو حضور نے بعد نماز مغرب مجلس ارشاد مرکزیہ کی صدارت فرمائی اور آخر میں اپنے مختصر خطاب میں احباب جماعت کو تلقین فرمائی کہ ہمیں قرآن عظیم کے انوار و برکات کو دعاؤں اور تدابیر کے ذریعہ حاصل کرنا چاہیئے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو قرآن عظیم کے مطابق بنائیں۔اسی روز حضور نے ۸ بجے صبح فضل عمر تعلیم القرآن کلاس کا افتتاح فرمایا اور طلباء اور طالبات کو زریں نصائح فرمائیں کہ خلیفہ وقت کے ساتھ مل کر اور یکجان ہو کر دین کے عالمگیر غلبہ کی عظیم جدوجہد میں حصہ لیں ، دعاؤں پر زور دیں۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا ذاتی اور زندہ تعلق قائم کرنے کی کوشش کریں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کو بار بار اور التزام کے ساتھ پڑھتے رہیں۔یہ کتب قرآن کریم کی الہامی تفسیر کا رنگ رکھتی ہیں اور اس زمانہ میں ان کا مطالعہ از حد ضروری ہے۔۱۴ را گست - حضور نے نماز جمعہ ایبٹ آباد میں اپنی قیام گاہ پر پڑھائی اور اپنے گذشتہ خطبہ جمعہ کے تسلسل میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی حقیقت اور اس کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی صفاتِ حسنہ کی حقیقی معرفت اور اس کے وعدوں پر کامل یقین پیدا کرنے کی ضرورت و اہمیت پر بصیرت افروز پیرایہ میں تفصیل سے روشنی ڈالی۔حضور نے قرآن کریم کی رُو سے ایمان کے مختلف معانی بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ جہاں بھی مطلق ایمان کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ اس صورت میں ایمان سبھی فائدہ دے سکتا