تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 161 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 161

تاریخ احمدیت۔جلد 26 161 سال 1970ء ہندوستان میں مسلمانوں کے قتل عام سے میں بے حد افسردہ خاطر تھا اور سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیا ہو گا۔اللہ ہی ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کو ہندوؤں کے مظالم سے بچائے۔قریب نصف صدی قبل میں نے انگریزی اخبار لائٹ میں ایک اداریہ لکھا تھا جس کا عنوان تھا ”ہندوستان میں چین ( Spain in India)۔جو نقشہ میں نے اس اداریہ میں کھینچا تھا وہ اب ہندوستان میں ظاہر ہے اور در مستقبل کی تاریکی سے دل بیٹھتا جاتا ہے۔اس ذہنی کوفت کے اندر بار بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامی الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے تھے : ” غلام احمد کی جے“۔سپین کے حالات حضرت صاحب نے سنائے جہاں وہ اپنے حالیہ دورہ میں گئے تھے۔وہاں مسلمانوں پر جو گزری وہ ایک دردناک داستان ہے۔حضرت صاحب نے غرناطہ میں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیں کہ اے اللہ سپین کا کیا بنے گا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت آئی کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور وقت مقررہ پر وہاں کے حالات بہتر ہو جائیں گے۔وہی حال ہندوستانی مسلمانوں کا معلوم ہوتا ہے۔اور حضرت صاحب نے میرے دل کو تقویت دلائی مجھے یہ یاد دلا کر کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اور الہام بھی ہے جس میں کہا ہے کہ ہند و کثرت سے اسلام میں داخل ہوں گے۔الغرض میں مایوس اور غمزدہ دل لے کر گیا تھا اور چند منٹ حضرت صاحب کی صحبت میں بیٹھنے کی بدولت ایک پُر امید دل لے کر واپس آیا۔یہ عریضہ میں اس غرض سے ارسال خدمت کر رہا ہوں کہ احباب تک یہ بات پہنچا دوں کہ ایک باخدا انسان کی صحبت اور معیت کس قدر عظیم نعمت ہے۔میرے لڑکے کیپٹن عبد السلام نے حضرت کی روانگی اور واپسی پر چند اشعار ہدیۂ خدمت کئے تھے۔جب ان اشعار کا ذکر آیا تو ایک غیبی طاقت نے میرے لبوں پر بھی یہ مصرعہ جاری کیا جو عرض خدمت کر دیا گیا:۔اے ناخدائے کشتی اسلام۔السلام میرا جماعت لاہور سے کٹ کر جماعت ربوہ میں شمولیت کا مسئلہ ابھی تک لا ہوری حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے اور طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں۔میں اپنے سابقہ اعلانات میں کافی وضاحت کر چکا ہوں کہ کن وجوہات نے مجھے یہ قدم اٹھانے پر مائل کیا۔اس موقعہ پر میں پھر مختصر الفاظ میں اُن وجوہات کا اعادہ کر دیتا ہوں۔ایک وجہ جو بڑی اہم اور فیصلہ کن ہے وہ یہ ہے کہ حضرت