تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 160
تاریخ احمدیت۔جلد 26 160 سال 1970ء نے آپ کی صحت پر بے حد اثر ڈالا اور شدید ضرورت محسوس ہوئی کہ حضور بحالی صحت کے لئے کسی صحت افزا مقام پر تشریف لے جائیں۔اس غرض کے لئے حضور نے ایبٹ آباد کا انتخاب فرمایا اور ۲۷ جون سے ۳۰ ستمبر ۱۹۷۰ ء تک یعنی قریباً تین ماہ تک یہیں سعید ہاؤس میں قیام فرمار ہے۔اس عرصہ میں وقفہ وقفہ سے مختصر قیام کے لئے اسلام آباد، راولپنڈی اور ر بوہ بھی تشریف لاتے رہے۔یہ سفر بظاہر تبدیلی آب و ہوا کے لئے تھا مگر حضور کی شبانہ روز دینی، تربیتی اور انتظامی مصروفیات اور اپنے وسیع اثرات کے باعث ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔(قیام ایبٹ آباد کے عرصہ میں حضور نے صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کو امیر مقامی اور مسجد مبارک کا امام الصلوۃ مولانا قاضی محمد نذیر صاحب کو مقرر فرمایا ) ۲۷ جون کو حضور موٹر کار کے ذریعہ ربوہ سے صبح چھ بجے روانہ ہو کر بخیر و عافیت ایبٹ آباد میں بعد دو پہر رونق افروز ہوئے۔اور اگلے روز سے ہی حضور کی دینی سرگرمیوں کا آغاز ہو گیا چنانچہ اس روز مقامی جماعت کے دوستوں کے علاوہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے بعض احباب کو حضور نے شرف زیارت بخشا اور اپنے قیام گاہ پر ظہر و عصر کی نمازیں پڑھانے کے بعد ایک گھنٹہ تک احباب میں تشریف فرمار ہے اور اپنے کلمات طیبات اور مواعظ حسنہ سے مستفیض فرمایا۔محمد یعقوب خانصاحب سابق ایڈیٹر لائٹ کا خط حضور کی علم و معرفت سے لبریز مجلس سے مولانا محمد یعقوب خان صاحب سابق ایڈیٹر اخبار دی لائٹ لاہور بے حد متاثر ہوئے۔چنانچہ انہوں نے اگلے ہی روز حسب ذیل مکتوب ایڈیٹر صاحب الفضل کے نام تحریر فر مایا:۔ایبٹ آباده ۲۹/۶/۷ مکرم محترم مدیر صاحب الفضل السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حسنِ اتفاق ہے کہ حضرت خلیفتہ امیج الثالث جس کو ٹھی (سعید ہاؤس) میں ٹھہرے ہیں وہ میری رہائش گاہ سے قریب ہے۔آج میں نے ارادہ کیا کہ اپنی پہیہ والی کرسی (wheel chair) پر بیٹھ کر حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہونے کی سعادت حاصل کروں۔میرے ملازم جو میری کرسی دھکیل رہے تھے راستہ کے نشیب وفراز سے گھبرا جاتے تھے میں انہیں ہمت دلاتا تھا کہ اصل راحت اور ثواب اسی تکلیف میں ہے جو ہم اٹھارہے ہیں۔