تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 162 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 162

تاریخ احمدیت۔جلد 26 162 سال 1970ء مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے ساتھ بہت سی توقعات وابستہ تھیں۔اہل لاہور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام اور مشن کوگر اکران ساری توقعات کو خاک میں ملا دیا۔غیر مبایعین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس تاریخی مشن کو لا یعنی بحثوں میں الجھ کر ختم کر دیا۔انسانی ہمدردی کا یہ تقاضا تھا کہ میں دنیا کی خوشی اور نا خوشی سے بے نیاز ہو کر اس حقیقت کا اعلان کروں جسے میں حق سمجھتا ہوں۔خدا کرے ہمارے غیر مبایعین احباب کو اب بھی سمجھ آ جائے کہ اس وقت دنیائے اسلام کی قیادت کے لئے اللہ تعالیٰ نے جس انسان کو چنا ہے وہ جماعت ربوہ کے امام ہیں اور ساری برکتیں اور نصر تیں اب دامنِ خلافت سے وابستہ ہیں۔دنیا بھر میں اسلام کی کشتی ایک خطرناک بھنور میں پھنسی ہوئی ہے۔مشیت ایزدی نے یہی پسند فرمایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے نافلہ کو اس تاریخی مشن پر مامور کیا جائے کہ اس خطرناک مرحلے پر اسلام کی کشتی کی ناخدائی کے فرائض انجام دے۔اس ملاقات کے دوران حضرت صاحب نے مسلمانانِ عالم کی زبوں حالی کی وجوہات کا جو بلند پایہ تجزیہ کیا وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔سپین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔”ہم مسلمان سپین میں تلوار کے ذریعہ داخل ہوئے اور اس کا جو حشر ہوا وہ ظاہر ہے۔اب ہم وہاں قرآن لے کر داخل ہوئے ہیں اور قرآن کی فتوحات کو کوئی طاقت زائل نہیں کر سکتی“۔والسلام محمد یعقوب خان 127 سید نا حضرت خلیفہ امسح الثالث نے ۳ جولائی ۱۹۷۰ء کوسعید ہاؤس ایبٹ آباد میں خطبہ کے دوران ارشاد فرمایا:۔فکر اور تدبر کرنے والے عیسائی پادری میرے نزدیک اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ ان کا اسلام کے ساتھ آخری معرکہ افریقہ میں ہے اور اب وہاں بڑا زور دے رہے ہیں۔انگلستان میں گرجے برائے فروخت اور افریقہ میں نئے گرجے بنوار ہے ہیں۔پس اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی توجہ کا مرکز اس وقت انگلستان یا یورپی ممالک نہیں بلکہ افریقہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے وقت مختلف