تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 7
تاریخ احمدیت۔جلد 26 7 سال 1970ء مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے علوم سے باہر نہیں مل سکتے اس لئے ہم ان کو ترجیح دیتے ہیں۔پس اگر اپنا پریس ہوگا تو قرآن کریم سادہ یعنی قرآن کریم کا متن بھی ہم شائع کر لیا کریں گے۔اس کی اشاعت کا بھی تو ہمیں بڑا شوق اور جنون ہے۔یہ بات کرتے ہوئے بھی میں اپنے آپ کو جذباتی محسوس کر رہا ہوں۔ہمارا دل تو چاہتا ہے کہ ہم دنیا کے ہر گھر میں قرآن کریم کا متن پہنچا دیں اللہ تعالیٰ آپ ہی اس میں برکت ڈالے گا تو پھر بہتوں کو یہ خیال پیدا ہو گا کہ ہم یہ زبان سیکھیں یا اس کا ترجمہ سیکھیں۔پھر اور بھی بہت سارے کام ہیں جو ہم صرف اس وجہ سے نہیں کر سکتے کہ ہمارے پاس پریس نہیں لیکن میرے دل میں جو شوق پیدا کیا گیا ہے اور جو خواہش پیدا کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ سارے پاکستان میں اس جیسا اچھا پر لیس کوئی نہ ہو۔اور پھر اس پریس کو اپنی عمارت کے لحاظ سے اور دوسری چیزوں کا خیال رکھ کر اچھا رکھا جائے۔عمارت کو ڈسٹ پروف (Dust proof) بنایا جائے تا ہم ایک دفعہ دنیا میں اپنی کتب کی اشاعت کر جا ئیں۔۔۔۔۔دوسری خواہش جو بڑے زور سے میرے دل میں پیدا کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایک طاقتور ٹرانسمٹنگ اسٹیشن ( Transmitting Station) دنیا کے کسی ملک میں جماعت احمدیہ کا اپنا ہو۔اس ٹرانسمٹنگ اسٹیشن کو بہر حال مختلف مدارج میں سے گزرنا پڑے گا لیکن جب وہ اپنے انتہا کو پہنچے تو اس وقت جتنا طاقتور روس کا شارٹ ویواسٹیشن (Short wave station) ہے جو ساری دنیا میں اشتراکیت اور کمیونزم کا پرچار کر رہا ہے اس سے زیادہ طاقتور اسٹیشن وہ ہو جو خدا کے نام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو دنیا میں پھیلانے والا ہو اور چوبیس گھنٹے اپنا یہ کام کر رہا ہو۔اس کے متعلق میں نے سوچا کہ امریکہ میں تو ہم آج بھی ایک ایسا اسٹیشن قائم کر سکتے ہیں وہاں کوئی پابندی نہیں ہے جس طرح آپ ریڈیو ریسیونگ سیٹ (Radio Receiving Set) کا لائسنس لیتے ہیں اسی طرح آپ براڈ کاسٹ (Broadcast) کرنے کا لائسنس لے لیں۔وہ آپ کو ایک