تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 8
تاریخ احمدیت۔جلد 26 8 سال 1970ء فریکوئنسی (Frequency) دیدیں گے اور آپ وہاں سے براڈ کاسٹ کر سکتے ہیں لیکن امریکہ اتنا مہنگا ہے کہ ابتدائی سرمایہ بھی اس کے لئے زیادہ چاہیے اور اس پر روز مرہ کا خرچ بھی بہت زیادہ ہو گا۔اور اس وقت ساری دنیا میں پھیلی ہوئی اس روحانی جماعت کی مالی حالت ایسی اچھی نہیں کہ ہم ایسا کر سکیں۔یعنی میدان تو کھلا ہے لیکن ہم وہاں نہیں پہنچ سکتے۔دوسرے نمبر پر افریقہ کے ممالک ہیں۔نائیجیریا، غانا اور لائبیریا سے بعض دوست یہاں جلسہ سالانہ پر آئے ہوئے تھے۔غانا والوں سے تو میں نے اس کے متعلق بات نہیں کی لیکن باقی دونوں بھائیوں سے میں نے بات کی تو انہوں نے آپس میں یہ بات شروع کر دی کہ ہمارے ملک میں یہ لگنا چاہیے اور وہاں اجازت مل جائے گی جس کا مطلب یہ ہے کہ گو پتہ تو کوشش کرنے کے بعد ہی لگے گا کہ کہاں اس کی اجازت ملتی ہے لیکن ان ممالک میں سے کسی نہ کسی ملک میں اس کی اجازت مل جائے گی۔اور چونکہ ہماری طرح یہ ملک بھی غریب ہیں اس لئے زیادہ خرچ کی ضرورت نہیں ہوگی۔شروع میں میرا خیال تھا کہ صرف پروگرام بنا کر اناؤنس کرنے والے ہی ہمیں دس پندرہ چاہئیں۔پہلے مرحلہ میں چاہیے کہ یورپ اور مشرق وسطی کی زبانوں میں پروگرام نشر کیا جا سکے۔اسی طرح عرب ممالک اور پھر ٹر کی ، ایران، پاکستان اور ہندوستان سب اس کے احاطہ میں آجائیں گے۔انشاء الل۔علمی نقار بر مجلس ارشاد مرکز یہ اور اس کا ملک گیر پروگرام 66 ۱۹۶۷ء میں سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے علمی تقاریر کے اجلاسوں کا نام، جومرکز میں حضور کی نگرانی میں منعقد ہورہے تھے "مجلس ارشاد مرکز یہ تجویز فرمایا تھا اور اپریل ۱۹۶۷ء میں ہدایت فرمائی کہ اس مرکزی مجلس کے پروگرام کے مطابق ہر بڑی جماعت کراچی، ملتان، منٹگمری (ساہیوال)، لاہور، سیالکوٹ، گجرات، راولپنڈی، سرگودھا، لاسکپور، ڈھا کہ میں یہ اجلاس مرکزی تاریخ پر امیر جماعت کے زیر انتظام منعقد ہوں۔نیز ہر جگہ اس مجلس کا نام ”مجلس ارشاد ہوگا۔چنانچہ حضور کی اس ہدایت کے مطابق مرکز کے علاوہ ملک کی بڑی بڑی جماعتوں میں بھی علمی