تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 157 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 157

تاریخ احمدیت۔جلد 26 157 سال 1970ء کذائی کا پورا مرقع تھا۔اس کی پتھرائی سی آنکھیں اور یہ حالت دیکھ کر قدرے تر ڈد کے ساتھ اندر آنے کی دعوت دی۔اس نوجوان نے بتایا کہ اس پر جنات کا قبضہ ہے۔خاکسار نے سمجھانے کی کوشش کی کہ جنات ایسی کوئی مخلوق نہیں جو انسان پر قبضہ کر لے۔یہ کب مانتا تھا، منشیات کے زیر اثر کبھی رود یتا کبھی ہنس دیتا۔کچھ دیر کے بعد جب میں نے یہ تاثر دیا کہ صاحب اب اپنی راہ لیں اور مجھے کچھ دیر اور کام کرنے دیں تو اس نوجوان نے معاملہ کو بھانپ لیا اور مجھ سے کہا کہ گویا تم مجھ سے چھٹکارا چاہتے ہو۔اس پر میں سخت کھسیانا ہوا اور کہا نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔چائے پیش کی تقریباً دو گھنٹے کے بعد یہ نو جوان رخصت ہوا۔چند روز کے بعد ایک پوسٹ کارڈ ملا جو اسی نو جوان کی طرف سے تھا۔فرینکفرٹ سے کوئی چالیس میل کے فاصلے پر ایک شہر Hadamar کے ہسپتال برائے امراض دماغی سے آیا تھا۔اس میں لکھا تھا کہ مسجد سے واپسی پر فرینکفرٹ شہر کے وسط میں واقع دریائے مائن میں چھلانگ لگانے کی ناکام کوشش پر پولیس نے اسے پکڑ کر یہاں بھیج دیا ہے۔خاکسار نے اس خط کا جواب دیا اور بعد ازاں ہسپتال میں جا کر ملاقات کی۔چند ہفتے زیر علاج رہ کر یہ وہاں سے پھر فرینکفرٹ آگئے جہاں اپنی والدہ کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔والد بچپن میں فوت ہو چکا تھا۔اس نو جوان کے نصیب جاگے۔حضرت امام جماعت احمدیہ (الثالث ) ۱۹۷۰ء میں افریقہ کے دورہ پر تشریف لے گئے۔حسب پروگرام آپ نے زیورک سے لیگوس کے لئے روانہ ہونا تھا لیکن جو فلائٹ زیورک سے لیگوس پہنچتی تھی وہ وہاں پر شام کو پہنچتی تھی جس وقت ان دنوں میں اغلبا کر فیولگتا تھا۔لہذا اچانک پروگرام میں تبدیلی کی گئی اور حضور زیورک سے بذریعہ ٹرین فرینکفرٹ تشریف لائے جہاں سے لیگوس کے لئے فلائٹ لی۔فرینکفرٹ میں آپ کا قیام تین روز رہا جس کے دوران جمعہ بھی تھا۔جرمنی میں اس وقت احمدیوں کی بہت تھوڑی تعداد تھی۔اطلاع ملنے پر اکثر فرینکفرٹ حاضر ہو گئے۔یہ مہی نوجوان جسے حضور کی تشریف آوری کا کوئی علم نہ تھا مسجد پہنچ گیا۔اس کی ہیئت کذائی دیکھ کر باہر ڈیوٹی پر کھڑے خدام نے اسے اندر جانے سے روکا اس نے اندر جانے پر اصرار کیا۔بالآخر بات خاکسار تک پہنچی۔خاکسار مسجد میں بیٹھا تھا۔خطبہ جمعہ شروع ہونے والا تھا۔خاکسار نے باہر جا کر دیکھا تو وہی صاحب تھے۔خدام سے کہا کہ انہیں اندر آنے دیں یہ آ کر دوسرے نمازیوں کے ساتھ مسجد میں بیٹھ گئے۔نماز کی ادائیگی کے بعد تسبیحات سے فارغ ہو کر حضور نے خدام کی طرف رخ فرمایا اور متبسم چہرہ کے ساتھ احباب سے محو گفتگو ہوئے۔یہ نوجوان کچھ فاصلے پر دوزانوسر جھکائے بیٹھا تھا۔