تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 158
تاریخ احمدیت۔جلد 26 158 سال 1970ء تھوڑی دیر بعد خاکسار نے حضور کی خدمت میں اس نوجوان کا تعارف کرواتے ہوئے عرض کیا کہ یہ صاحب شاعر ہیں اور یہی خیالات کے ہیں بلکہ ایک ہی گروپ کے بانی ہیں۔اس پر حضور نے اس نوجوان کو مخاطب ہو کر جو فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ دنیا بے ثبات ہے اور اصل زندگی تو حیاتِ آخرت ہے اس دنیا کے علائق میں محو ہو کر اُخروی زندگی کو بھولنا نہیں چاہیے اور حیات آخرت کی بہتری کے لئے اس دنیا میں کوشاں رہنا چاہیے۔یہ نو جوان مسلسل سر جھکائے بیٹھا ر ہا۔خدا تعالیٰ کے پیارے بندے کی نگاہوں نے اس مُشت خاک کی کایا پلٹ دی۔یہ مجلس تو برخاست ہوئی بندہ خدا کی نگاہیں اپنا کام کر گئیں۔یہ نوجوان جلد ہی دنیاوی علائق کو پس پشت ڈال کر حیات اُخروی کا اندوختہ تیار کرنے کے لئے کمر بستہ ہو گیا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ سے والہانہ عشق نصیب ہوا جو اب اس کی نظم و نثر سے ظاہر ہے۔سلطان القلم کے اس خادم کو خدا تعالیٰ غیر معمولی قلمی خدمات کی توفیق عطا فرمائے۔مکرم ہدایت اللہ ہیوبش صاحب ان خوش قسمت روحوں میں سے ایک روح تھے جن کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک عظیم الشان حقیقت پیشگوئی کے رنگ میں بیان فرمائی کہ:۔جس کی فطرت نیک ہے آئے گا وہ انجام کار 125 قبول احمدیت کے بعد انہوں نے کما حقہ دین کو دنیا پر مقدم کر لیا اور خدمات دینیہ میں ہر لحاظ سے مثالی وجود بن گئے۔ان کی قبول احمدیت کے واقعات اہل ایمان کے لئے نہایت ایمان افروز اور نیک فطرت لوگوں کے لئے یقیناً باعث ایمان ہیں۔آپ نے ایک نہایت کامیاب زندگی گزار کریم جنوری ۲۰۱۱ء کو وفات پائی۔حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۷ جنوری ۲۰۱۱ء میں ذکر خیر فرمایا اور نماز جنازہ غائب پڑھائی۔آپ کی خدمات کی تفصیلات تاریخ احمدیت کی متعلقہ جلد میں آئے گی۔انشاء اللہ جماعت ہائے ضلع راولپنڈی کا استقبالیہ مورخہ ۲۷ جون ۱۹۷۰ء کو جماعتہائے احد یہ راولپنڈی ضلع کی طرف سے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے ربوہ سے ایبٹ آباد کے سفر کے دوران راولپنڈی میں مختصر قیام پر استقبالیہ دیا گیا۔راولپنڈی سے بارہ میل دور ترنول کے مقام سے تین فرلانگ آگے کو ہاٹ روڈ پر احباب صبح آٹھ بجے سے ہی پہنچنے شروع ہو گئے۔جناب ملک عبدالمغنی صاحب نائب امیر ثانی کی زیر قیادت دو کاروں پر