تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 156
تاریخ احمدیت۔جلد 26 156 سال 1970ء لئے مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں تو واقعی اندھا ہو گیا ہوں۔اگلے ہی لمحہ نظارہ بدلنے سے یہ کیفیت دور ہو گئی اور میری بینائی لوٹ آئی۔اس کے معاً بعد با جماعت نماز شروع ہوگئی۔فہم و ادراک سے بالا یہ ایک عجیب و غریب روحانی تجربہ تھا جس نے آن کی آن میں میری کایا پلٹ دی۔وہ جمعہ کا دن تھا اور وہ مقرر یا خطیب تھے امام جماعت احمدیہ حضرت حافظ مرزا ناصر احمد خلیفہ اسیح الثالث۔وہ انہی دنوں میں سپین کا دورہ کرنے کے بعد جبکہ میں بھی وہیں کہیں مارا مارا پھر رہا تھا اپنی جماعت کے اراکین سے ملنے کے لئے کچھ ہی عرصہ قبل جرمنی تشریف لائے تھے۔وہ آدمی جس نے مجھے مسجد میں داخل ہونے سے روکا تھا مقامی جماعت احمدیہ کا ایک رضا کا تھا اور جو شخص دفتر کے دروازہ پر ایستادہ تھا وہ حضرت خلیفہ اسیح کا ذاتی پہریدار گارڈ تھا۔اُس زمانہ میں میں جس حال میں تھا اور جس نا گفتہ بہ کیفیت میں سے گزر رہا تھا اُس جیسے بے حال انسان کو دیکھ کر منتظمین کے دلوں میں شکوک وشبہات کا پیدا ہونا ایک قدرتی امر تھا مگر اس موقع پر خدائے بزرگ و برتر نے محض اپنے فضل و رحم سے مجھ جیسے بے حیثیت انسان کے لئے اپنے عظیم الشان نشانوں میں سے ایک نشان ظاہر فرمایا اور مجھے اس سے مستفیض ہونے کی غیر معمولی سعادت بخشی۔فالحمد للہ علی ذالک۔بعد ازاں جون ۱۹۷۰ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوائی ماموریت پر ایمان لا کر جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔حضرت خلیفہ اسیح نے میرا نام ہدایت اللہ رکھا جس کے معنے ہیں خدا سے ہدایت یافتہ۔حقیقت بھی یہی ہے کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین اور آپ کے بتائے ہوئے راستہ کی طرف کسی انسان نے میری راہنمائی نہیں کی بلکہ یہ دعاؤں کی معجزانہ تاخیرات ہی تھیں جو مجھے ہدایت کی راہ دکھانے کا موجب بنیں۔خدا تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت احمدیہ میں بہت سے ہدایت اللہ کھینچ بلائے اور اس طرح روئے زمین کے انسانوں کو اندھیرے سے روشنی میں آنے کی توفیق عطا فرماتا چلا جائے۔آمین۔12 124- مکرم مسعوداحمد جہلمی صاحب سابق مربی سلسلہ جرمنی محترم ہدایت اللہ ہیوبش صاحب کے قبول احمدیت کے متعلق لکھتے ہیں:۔۱۹۷۰ء کے اوائل کا ذکر ہے کہ ایک روز فرینکفرٹ مسجد کے دروازے پر دستک ہوئی۔خاکسار دروازہ پر گیا تو سامنے ایک بد حال اور پراگندہ بال نوجوان کھڑا تھا جو اُس زمانہ میں ایک بیتی کی ہیئت