تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 155
تاریخ احمدیت۔جلد 26 155 سال 1970ء اندر جانے دے لیکن میری اس التجا کا اس پر خاک اثر نہ ہوا اور وہ اپنے موقف پر ڈٹا رہا۔اُسی لمحہ میرے دل میں بجلی کے کوندے کی طرح خیال آیا۔میں نے سوچا کہ میں اندھا ہونے سے بہت خوف کھاتا ہوں اور نہیں چاہتا کہ میری بینائی جاتی رہے اور دنیا میرے لئے اندھیر ہو جائے۔اندھے ہو جانے کے خوف پر مجھے دل ہی دل میں بہت ندامت محسوس ہوئی اور میں نے وہیں کھڑے کھڑے اپنے دل میں ایک بچہ کی طرح قسم کھا کر خدا کے حضور یہ عہد کیا کہ اے خدا! میں تیری خاطر اپنی یہ آنکھیں جو مجھے بہت عزیز ہیں قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔تو میری بینائی لے لے پر مجھے مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دیدے۔دل ہی دل میں میں نے خدا کے حضور یہ عہد کیا ہی تھا کہ میری نظر وہاں آویزاں ایک بورڈ پر پڑی۔اس پر یہ نشاندہی کی گئی تھی کہ مسجد کا دفتر کس سمت میں واقع ہے۔اس سے مجھے یاد آیا کہ دفتر کا دروازہ مسجد کے دروازہ سے الگ ہے۔میں اپنی جگہ سے ہلا اور مسجد کے عقبی جانب دفتر کے دروازہ کی طرف چل پڑا۔وہاں بھی ایک شخص پہرہ پر کھڑا تھا۔اس نے میری عجیب و غریب حالت دیکھ کر مجھے دفتر میں بھی داخل ہونے سے روک دیا۔میں نے ایک دفعہ پھر اپنا عہد دل ہی دل میں دہرایا۔اچانک ایک آدمی نمودار ہوا اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور مجھ سے پوچھا یہاں کیوں کھڑے ہو اور کیا چاہتے ہو؟ میں نے اس سے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔خدا نے اس کے دل میں رحم ڈالا اور وہ مجھے مسجد کے اندر لے گیا۔سوالحمد للہ میں بالآخر مسجد میں داخل ہو گیا۔داخل ہوتے ہی میں نے اپنے طور پر نماز شروع کر دی۔سلام پھیر کر میں اسی حالت میں اپنی جگہ بیٹھا رہا۔مسجد لوگوں سے بھری ہوئی تھی اور ایک عظیم انسان جس نے سر پر بڑی سی سفید پگڑی پہنی ہوئی تھی اور جس کا چہرہ بھری ہوئی بہت خوبصورت سفید ریش سے مزین تھا، محراب کے قریب کھڑا ایک ایسی زبان میں تقریر کر رہا تھا جسے میں نہیں سمجھتا تھا۔میں خاموش بیٹھا اس عظیم انسان کو تکتا رہا۔اُس وقت میرا دل ایک عجیب قسم کے خوف سے بھرا ہوا تھا۔میں دل ہی دل میں حیران تھا کہ یہ عظیم شخص کون ہے جو بالکل ایک اجنبی زبان میں تقریر کر رہا ہے۔تقریر کرتے کرتے وہ شخص فرش پر اپنے پیروں کے بل یکدم بیٹھ گیا۔تقریر کرتے کرتے کسی کو فرش پر اس طرح بیٹھتے ہوئے دیکھنا میرے لئے بالکل ایک نیا تجربہ تھا۔اس کے معابعد چشم زدن میں ایک عجیب وغریب واقعہ رونما ہوا۔خفیف سے وقفہ کے بعد جونہی وہ شخص دوبارہ کھڑا ہوا تو اس کی دونوں آنکھوں سے نور کی دو لمبی لمبی شعائیں نکلیں اور سیدھی میری آنکھوں سے آٹکرائیں۔ان شعاعوں کی خیرہ کر دینے والی چمک سے لمحہ بھر کے