تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 154
تاریخ احمدیت۔جلد 26 154 سال 1970ء اور قریباً ایک ہفتہ کا عرصہ الحمرا نامی تاریخی محلات کے سایہ میں بسر کیا۔اس کے قرب وجوار میں ایک دن میں نے ایک چراگاہ میں کھلے عام نمازیں ادا کیں۔قریبی علاقہ کے بچے مجھ اجنبی کے گرد جمع ہوتے تھے۔وہ میری حرکات و سکنات کو دلچسپی سے دیکھتے رہتے۔میرے لئے وہ اپنے والدین سے کھانے پینے کی اشیاء مانگ لاتے تھے پیسے وغیرہ میرے پاس نہ تھے۔میں بچوں کی لائی ہوئی چیزیں کھا کر اپنی بھوک مٹالیا کرتا تھا۔اسی کسمپرسی کے عالم میں جوں توں سفر کرتا اور راستہ میں ٹھہرتا ٹھہرا تا آخر میں ایک دن سپین سے فرینکفرٹ واپس پہنچ گیا، پہنچنے کے بعد فوری طور پر میں نے مسجد نور کا رخ کیا۔اس وقت میری فقیروں سے بھی بدتر حالت تھی۔مجھے اپنی ہیئت کذائی کا کوئی احساس نہ تھا۔بس ایک ہی دھن سوار تھی اور وہ یہ کہ کسی طرح خدا مجھے اپنی قبولیت کے شرف سے نواز دے۔سیوطہ(Ceuta) شہر میں مسجد سے نکالے جانے کو میں نے ایک خدائی اشارے پر محمول کیا۔میرے نزدیک یہ واقعہ علامت تھا اس امر کی کہ خدا نہیں چاہتا کہ مجھے ایسا ناپاک انسان اس کے گھر میں داخل ہو۔اب مجھے فکر یہ لاحق تھی کہ کہیں مسجد نور میں بھی نمازیں ادا کرنے سے نہ روک دیا جاؤں۔میں سمجھتا تھا کہ میرے گناہ اس قدر زیادہ ہیں کہ خدا مجھے اپنے پاک اور مقدس مقامات میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔جب میں اپنی نیم مخبوط الحواسی اور پرا گندگی کی حالت میں مسجد نور پہنچا تو مسجد کے اندر داخل ہونے والے بڑے دروازہ پر مجھے روک لیا گیا۔دروازے کے قریب ایک شخص پہریدار کے طور پر کھڑا تھا اس نے مجھے مخاطب کر کے کہا تم اندر نہیں جاسکتے۔یہ سن کر میں اپنی جگہ ہل کر رہ گیا۔جس بات سے ڈر رہا تھا وہ سامنے آئے بغیر نہ رہی۔میرا یہ یقین اور پختہ ہو گیا کہ خدا نہیں چاہتا کہ مجھ ایسا انسان مسجد میں قدم رکھے۔مجھے اس بات سے شدید صدمہ پہنچا۔میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں کیونکر خدا کو راضی کروں۔میرے پاس کچھ بھی تو نہ تھا جو میں خدا کے حضور پیش کر کے اسے راضی کرنے کی کوشش کرتا۔دنیا سے میں نے منہ موڑ لیا تھا۔اپنی شہرت ، اپنی جمع پونجی ، اپنی صلاحیتوں ، اپنے دوستوں اور ساتھیوں سے میں تہی دست ہو بیٹھا تھا۔مستقبل سے اپنے آپ کو بے نیاز میں نے کر لیا تھا۔میرے پاس رہا ہی کیا تھا جو خدا کے حضور پیش کر سکتا۔بس ایک خواہش لئے پھر رہا تھا کہ مسجد میں نماز پڑھنے اور دعا کرنے کی اجازت مل جائے تا کہ اس ذریعہ سے ہی خدا کو راضی کرنے کی کوشش کر سکوں، اور وہ پوری ہوتی نظر نہ آتی تھی۔جس شخص نے مجھے روکا تھا میں نے اس سے ایک بار پھر التجا کی کہ وہ دوسروں کی طرح مجھے بھی مسجد کے