تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 119 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 119

تاریخ احمدیت۔جلد 26 119 سال 1970ء اس بات کا بھی جواب آ گیا کہ ذرائع نہیں کام کیسے ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ پر توکل رکھو اور جو شخص اللہ پر توکل رکھتا ہے اسے دوسرے ذرائع کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی۔وہ اس کے لئے کافی ہے۔اِنَّ اللهَ بَالِغُ أَمْرِم - اللہ تعالیٰ جو اپنا مقصد بنا تا ہے اسے ضرور پورا کر کے چھوڑتا ہے اس لئے تمہیں یہ خیال نہیں آنا چاہئیے ، یہ خوف نہیں پیدا ہونا چاہئیے کہ یہ نہیں ہوسکتا۔یہ ہوگا اور ضرور ہوگا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض ہی یہ ہے کہ تمام اقوام عالم کو وحدت اسلامی کے اندر جکڑ دیا جائے۔اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں لا کر کھڑا کر دیا جائے۔دوسرا خیال یہ تھا اور اس کے لئے میں دعا بھی کرتا تھا کہ خدایا یہ ہوگا کب اس کا جواب بھی مجھے مل گیا۔قَدْ جَعَلَ اللهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا۔اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ اور تخمینہ مقرر کیا ہوا ہے جس وقت وہ وقت آئے گا ہو جائے گا تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔مادی ذرائع اگر نہیں ہیں تو تم فکر نہ کرو اللہ کافی ہے۔وہ ہو کر رہے گا۔چنانچہ میرے دل میں بڑی تسلی پیدا ہو اس کے متعلق میں نے آپ کے سامنے کوئی سکیم نہیں رکھی کیونکہ ابھی وہاں کے متعلق مجھے اللہ تعالیٰ کا منشاء معلوم نہیں ہوا۔البتہ سپین کے متعلق میں ایک اور کوشش کر رہا ہوں جس کو ظاہر کرنا اس وقت مناسب نہیں لیکن جس کے لئے دعا کرنا آج ہی ضروری ہے۔اس لئے بڑی کثرت سے یہ دعا کریں کہ جس مقصد کے لئے میں سپین گیا تھا اور جس کے پورا ہونے کے بظاہر آثار پیدا ہو گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحم سے ہمارا کام کر دے کیونکہ ہم کمزور اور عاجز بندے ہیں۔پھر وہ دن ساری امت مسلمہ کیلئے بڑی خوشی کا دن ہوگا۔بعض اس کو پہچانیں گے اور خوش ہوں گے۔بعض نہیں پہچانیں گے اور خوش نہیں ہوں گے۔یہ ان کی بدقسمتی ہوگی لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ دن ساری امت مسلمہ کے لئے خوشی کا دن ہوگا۔میں نے مغربی افریقہ کے ممالک جہاں مسلمانوں کی بڑی بھاری اکثریت ہے ان میں سے بعض کے سفراء سے یہ کہہ دیا تھا کہ میرا ایک مشن ہے جس کے لئے میں سپین جا رہا ہوں اور تم دعا کرو۔اور اس سے اصل مقصد میرا یہ تھا کہ میں دعا کے لئے کہونگا ان کے دل میں بھی احمدیت کی کوششوں کے بارہ میں ایک دلچسپی اور پیار پیدا ہو گا چنانچہ وہ اتنے خوش ہوئے کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے اور انہوں نے بڑی دعائیں دیں بلکہ ان میں سے ایک نے مجھے کہا کہ مسٹر فرینکو کو کہہ دینا کہ