تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 118
تاریخ احمدیت۔جلد 26 118 سال 1970ء طبیعت میں اس قدر پریشانی تھی کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔غرناطہ جاتے وقت میرے دل میں آیا کہ ایک وقت وہ تھا یہاں کے درودیوار سے درود کی آواز میں اٹھتی تھیں آج یہ لوگ گالیاں دے رہے ہیں۔طبیعت میں بڑا تکدر پیدا ہوا۔چنانچہ میں نے ارادہ کیا کہ جس حد تک کثرت سے درود پڑھ سکوں گا پڑھوں گا تا کہ کچھ تو کفارہ ہو جائے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت نے مجھے بتائے بغیر میری زبان کے الفاظ بدل دیئے۔گھنٹے دو گھنٹے کے بعد اچانک جب میں نے اپنے الفاظ پر غور کیا تو میں اس وقت درود نہیں پڑھ رہا بلکہ اس کی جگہ لا الہ الا انت اور لا الہ الا ھو پڑھ رہا تھا۔یعنی توحید کے کلمات میری زبان سے نکل رہے تھے۔تب میں نے سوچا کہ اصل تو تو حید ہی ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت بھی قیام تو حید کے لئے تھی۔میں نے فیصلہ تو درست کیا تھا یعنی یہ کہ مجھے کثرت سے دعائیں کرنی چاہئیں لیکن الفاظ خود منتخب کر لئے تھے۔درود سے یہ کلمہ کہ اللہ ایک ہے زیادہ مقدم ہے۔چنانچہ میں بڑا خوش ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی میری زبان کے رخ کو بدل دیا۔ہم غرناطہ میں دورا نہیں رہے۔دوسری رات تو میری یہ حالت تھی کہ دس منٹ تک میری آنکھ لگ جاتی پھر کھل جاتی اور میں دعا میں مشغول ہو جاتا۔ساری رات میں سونہیں سکا۔ساری رات اسی سوچ میں گزرگئی کہ ہمارے پاس مال نہیں۔یہ بڑی طاقتور قو میں ہیں۔مادی لحاظ سے بہت آگے نکل چکی ہیں۔ہمارے پاس ذرائع نہیں ہیں، وسائل نہیں ہیں ، ہم انہیں کس طرح مسلمان کریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو یہ مقصد ہے کہ تمام اقوام عالم حلقہ بگوش اسلام ہو کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خادم بن جائیں گی، یہ بھی اقوام عالم میں سے ہیں یہ کس طرح اسلام لائیں گی اور یہ کیسے ہوگا۔غرض اس قسم کی دعائیں ذہن میں آتی تھیں اور ساری رات میرا یہی حال رہا۔چند منٹ کے لئے سوتا تھا پھر جاگتا تھا پھر چند منٹ کے لئے سوتا تھا۔ایک کرب کی حالت میں میں نے رات گزاری وہاں دن بڑی جلدی چڑھ جاتا ہے۔میرے خیال میں تین یا ساڑھے تین بجے کا وقت ہوگا میں صبح کی نماز پڑھ کر لیٹا تو یکدم میرے پر غنودگی کی کیفیت طاری ہوئی اور قرآن کریم کی یہ آیت میری زبان پر جاری ہوگئی۔وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا