تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 114
تاریخ احمدیت۔جلد 26 114 سال 1970ء میں لندن واپس آیا تو میں نے جمعہ میں میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ فضل عمر فاؤنڈیشن میں انگلستان کی جماعتوں نے تین سال میں ۲۱ ہزار پونڈ چندہ دیا تھا۔یہ بڑی رقم ہے چھوٹی سی جماعت ہے اور اس کے لئے مکرم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب بھی تحریک کرتے رہے اور امام رفیق صاحب نے بھی بڑا زور لگایا اور شیخ مبارک احمد صاحب بھی وہاں مہینہ ڈیڑھ مہینہ رہ کر آئے اور پھر تین سال میں ۲۱ ہزار پونڈ جمع ہوئے ) دوستوں کو بتایا کہ گیمبیا میں مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء معلوم ہوا ہے کہ کم سے کم ایک لاکھ پونڈ یہاں خرچ کرو یہ وقت ہے۔پس میں اپیل کرتا ہوں کہ دوسومخلصین مجھے ایسے چاہئیں جو دوسو پونڈ فی کس دیں اور دوسو مخلصین مجھے ایسے چاہئیں جو ایک سو پونڈ فی کس دیں اور اس کے علاوہ میں نے بچوں کے لئے ایک مہینہ میں ایک پونڈ اور ۳ سال میں ۳۶ پونڈ مقرر کئے لیکن پہلے بارہ پونڈ فوری طور پر ادا کرنے کو کہا۔میں نے انہیں یہ بھی کہا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ انگلستان چھوڑنے سے قبل اس مد میں دس ہزار پونڈ کیش ہوتا کہ مجھے تسلی ہو جائے۔میں نے انہیں یہ کہا کہ یہ تو اب نہیں ہوسکتا کہ وہاں اللہ تعالیٰ کا بھی یہ منشاء ہے۔میں لوگوں سے وعدے بھی کر کے آیا ہوں) دو ہفتے بعد اگر نائیجیر یا کہے کہ ہمیں دو ہزار پونڈ چاہئیں کیونکہ کام شروع کرنا ہے اور میں یہ کہوں کہ انا الغنی و اموالی المواعید کہ میں بڑا امیر ہوں اور وعدے جو ہیں وہ میری امارت اور دولت ہیں۔پس یہ تو نہیں ہو سکتا اس لئے مجھے تسلی ہوئی چاہیے کہ فوری طور پر کام شروع کرنے کے لئے دس ہزار پونڈ موجود ہے اور یہ رقم ان بارہ تیرہ دنوں کے اندر جمع ہو جانی چاہیے۔امام رفیق وغیرہ کا خیال تھا کہ یہ بالکل ناممکن بات میں نے کر دی ہے۔میں نے ان کو ایک اور بات کہی اور وہ آپ کو بھی بڑے زور سے کہنا چاہتا ہوں۔میں نے انہیں کہا کہ مجھے یہ فکر نہیں کہ یہ رقم کہاں سے آئے گی کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ خرچ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور دے گا۔یہ رقم بہر حال مجھے ملے گی۔مجھے کوئی فکر نہیں۔وہاں مجھے اب فوری طور پر تھیں ڈاکٹروں کی ضرورت ہے اور اساتذہ اس کے علاوہ ہیں۔میں نے کہا کہ یہ بھی مجھے فکر نہیں کہ یہ رضا کا رواقف ملیں گے یا نہیں ملیں گے۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے یہاں کام کیا جائے۔جس چیز کی مجھے فکر ہے اور آپ کو بھی ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ محض خدا