تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 113
تاریخ احمدیت۔جلد 26 113 سال 1970ء کروں گا اور میں آپ کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ لوگوں نے سکوتو کے لوگوں کا دل جیت لیا تو سارا مسلم نارتھ آپ کے ساتھ ہو جائے گا کیونکہ یہ عثمان بن فود یو کے بچوں کا مرکز ہے۔پھر اس نے کہا کہ بہر حال قانونی کارروائی ضروری ہے اس لئے آپ لکھ کر مجھے بھجوا دیں۔میں وہاں یہ کرتا رہا ہوں کہ کام ان پر نہیں چھوڑا بلکہ جو کام کرنا ہوتا تھا وہ اپنے سامنے کرواتا تھا۔اسی رات کو میں نے خط ڈرافٹ کروایا۔اپنی تسلی کر لی۔دیکھ لیا اور جو تبدیلیاں کرنی تھیں وہ کروا دیں اور پھر ان کو دے دیا کہ یہ خط بھیج دو۔جب وہ خط گیا تو بڑا اچھا جواب آیا اس کی نقل بھی مجھے وہیں پہنچ گئی تھی۔دوسرے اس نے ان کو بعد میں یہ اطلاع دی کہ اس نے اپنے land deptt (لینڈ ڈیپارٹمنٹ) کو جس کا تعلق زمین کے دینے دلانے سے ہے یہ حکم دیا ہے کہ ان کی جتنی ضرورت ہے جہاں ان کو ضرورت ہے ان کے لئے زمین کا فوری انتظام کرو اور تعلیمی محکمہ کو کہا کہ یہ انتظار نہ کرو کہ یہ خط لکھ کر فارم منگوائیں گے بلکہ جو فارم پُر کرنے ضروری ہیں وہ خود ہی ان کو بھیج دو۔پس ( انشاء اللہ ) جلد کام ہورہا ہے۔نائیجیریا میں دورہ کی ابتدا تھی۔اتنے ہی وسائل تھے جو دل میں خیال آیا وہ کر دیا۔اسی طرح ہم دورہ کرتے چلے گئے پانچواں ملک گیمبیا تھا۔ہم لائبیریا سے سیرالیون جو اس کے ساتھ ملتا ہے اس لئے نہیں ٹھہرے تھے کہ وہاں سے ہم نے ہوائی جہاز لینا تھا واپس ہیگ آنے کے لئے۔پس اگر وہاں ٹھہر تے پھر گیمبیا جاتے پھر واپس یہاں آتے تو تکلیف ہوئی تھی ہمیں بھی اور دوستوں کو بھی ،اس لئے پروگرام یہ بنایا کہ لائبیریا سے ہم سیدھے گیمبیا چلے جائیں گے۔جہاز ویسے وہاں ٹھہرتا ہے، کچھ دوست ائیر پورٹ پر آئے ہوئے تھے چیف گمانگا صاحب ہمارے پریذیڈنٹ جماعت بھی آئے ہوئے تھے۔۳۰-۴۰ منٹ امروڈ رام پر مل جاتے ہیں۔ان سے ملاقات ہوئی پھر ہم گیمبیا چلے گئے۔جب میں گیمبیا میں تھا تو اللہ کی طرف سے بڑے زور سے یہ تحریک ہوئی کہ یہ وقت ہے کہ کم سے کم ایک لاکھ پونڈ فوری طور پر یہاں Invest کیا جائے۔پھر سیرالیون میں اپنے کام کئے اور جب