تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 112 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 112

تاریخ احمدیت۔جلد 26 112 سال 1970ء کہنے لگے کہ بات یہ ہے کہ دوسری کاریں ڈرائیور چلاتے ہیں اور مجھے ڈرائیوروں پر اعتبار نہیں میں اس لئے آجاتا ہوں کہ آپ کا قابلِ اعتبار ڈرائیور ہونا چاہیے۔خیر وہ چونکہ کار چلاتے تھے۔دو تین دن تک میں اپنی عادت کے مطابق ادھر ادھر کی باتیں کرتا پھر ایک بات احمدیت کے متعلق ان کے کان میں ڈال دیتا کبھی کوئی نظارہ ایسا دیکھوں جہاں اللہ تعالیٰ کی شان نظر آئے تو وہ ان کو کہوں۔چنانچہ تین دن کے بعد میں نے محسوس کیا کہ اب یہ تیار ہیں۔وزیری ان کا نام ہے میں نے کہا وزیری تم سورج غروب ہونے سے قبل احمدیت میں داخل ہو گے۔چنانچہ وہ احمدی ہو گئے۔دو دن کے بعد ان کی بیوی ملیں تو میں نے ان سے کہا 'سورج غروب ہونے سے قبل احمدیت میں داخل ہو جاؤ میں تمہیں اس لئے نہیں کہہ سکتا کہ سورج غروب ہونے میں نصف گھنٹہ باقی ہے اور نصف گھنٹے میں تمہیں بیعت فارم نہیں مل سکتا اس لئے میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ before the sun sets یعنی سورج کے غروب ہونے سے پہلے تم احمدیت میں داخل ہو بلکہ تمہیں میں یہ کہتا ہوں کہ چوبیس گھنٹے کے اندر داخل ہو چنانچہ اگلے دن صبح اس نے بیعت کر لی اور اس طرح سارا خاندان احمدی ہو گیا۔انہی وزیری صاحب کو میں نے بھیجا کہ جا کر گورنر سے ملو اور میری طرف سے اسے یہ پیشکش کرو کہ ہم فوری طور پر تمہاری سٹیٹ میں چار سکول کھولنے کے لئے تیار ہیں دولڑکیوں کے اور دولڑکوں کے لیکن تمہارے تعاون کے بغیر یہ ہو نہیں سکتا اور تم سے ہم صرف دو چیزوں کا تعاون چاہتے ہیں ایک ہمیں زمین دو کیونکہ ہم باہر سے زمین نہیں لا سکتے تم ہی زمین دو گے تو سکول قائم ہوگا۔اور دوسرے تم ہمارے اساتذہ کو entry permit (انٹری پرمٹ ) دو اس کے بغیر وہ تمہاری سٹیٹ میں آنہیں سکتے۔چنانچہ اس پیشکش کو سن کر وہ بہت خوش ہوا۔معلوم ہوتا ہے اس کے دل میں اس بات کا بڑا احساس ہے کہ اس کے علاقے کے مسلمان تعلیمی لحاظ سے بہت پیچھے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ نارتھ جو احمد بیت کا مقابلہ کر رہا ہے اس کے اندر عیسائی گھس گئے ہیں۔گوا بھی ابتداء ہے۔بہر حال وہ کہنے لگا کہ میں آپ سے ہر قسم کا تعاون