تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 111
تاریخ احمدیت۔جلد 26 111 سال 1970 ء مسلمانوں کا ہے انہوں نے احمدیت کا کافی مقابلہ کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل کیا کا نو میں خدا کے فضل سے اچھی خاصی جماعت قائم ہو گئی ہے وہاں ہمارا ایک ہیلتھ سنٹر بھی ہے جہاں ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب کام کر رہے ہیں اور یہ ہیلتھ سنٹر وہاں اتنا مقبول ہے کہ انہوں نے بتایا کہ وہاں کے وزیر کو اگر طبی امداد کی ضرورت ہو تو وہ گورنمنٹ کے ہسپتال میں جانے کی بجائے (جہاں اسے ہزار قسم کی سہولتیں مل سکتی ہیں کیونکہ وزیر ہے ) ہمارے کلینک میں آتا ہے۔بعض لوگوں نے اسے کہا بھی کہ تم یہ کیا کرتے ہواس نے کہا کہ مجھے یہاں زیادہ سہولت ملتی ہے، یہاں زیادہ اچھی طرح سے مریض کا علاج کیا جاتا ہے۔غرض وہاں بڑا اثر و رسوخ پیدا ہو گیا ہے۔لیکن سکو تو اسٹیٹ ابھی تک احمدیت کا مقابلہ کر رہی ہے۔سکو تو کے گورنر کیبنٹ کی میٹنگ میں شمولیت کیلئے لیگوس آئے تھے۔لیگوس سے سکو تو کی سٹیٹ قریباً آٹھ سو میل کے فاصلے پر واقع ہے۔انہوں نے ائیر پورٹ پر صحافیوں کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہا کہ میری سٹیسٹ میں تعلیمی محاذ پر ایمر جنسی ہے اور میں نے یہ ایمر جنسی declare(ڈیکلیر ) کردی ہے اور اپنے تمام resources (ری سورسز ( اکٹھے کر رہا ہوں مجھے امید ہے کہ عوام میرے ساتھ تعاون کریں گے۔یہ خبر جب میں نے سنی اس سے ایک دن پہلے میں نے کمیٹی مقرر کی تھی۔چنانچہ میں نے ایک نائیجیرین احمدی کو جن کے متعلق آپ پڑھ چکے ہیں کہا کہ چوبیس گھنٹے کے اندر اندر تم جماعت میں شامل ہو گے۔اس نے چوبیس گھنٹے کا انتظار بھی نہیں کیا بلکہ اسی وقت فارم کی تلاش کی اور ایک دو گھنٹے کے اندر ہی بیعت فارم پر کیا۔ان کا قصہ یہ ہے کہ وہ چار سال سے احمدیت کا مطالعہ کر رہے تھے لیکن بیعت فارم پُر کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔وہ اچھے عہد یدار ہیں۔کیبنٹ سیکریٹریٹ میں ڈپٹی سیکرٹری ہیں۔قریب دو ہزار روپے ماہوار تنخواہ لے رہے ہیں۔غرض احمدیت کا مطالعہ بھی کیا اور جاتے ہی میرے ساتھ پیار کا بڑا اظہار کیا۔ہر وقت اپنی کار لے کر آتے تھے اور مجھے کچھ حجاب بھی محسوس ہوا کہ احمدی نہیں ہیں۔احمدی ہوتے بھی نہیں اور کار لے کر آ جاتے ہیں اور کاروں کی ہمارے پاس کمی بھی نہیں ہے اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔مجھے حجاب تھا کہ ان کی کار میں کیوں بیٹھیں۔لیکن وہ