تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 108
تاریخ احمدیت۔جلد 26 108 سال 1970ء تقریب کی خبر بھی بہت نمایاں طور پر شائع ہوئی۔مثال کے طور پر دی پائینز نے اپنی ۲۲ اپریل کی اشاعت میں جلی عنوانات کے تحت حضور کی تقریر کا ملخص درج کرتے ہوئے لکھا:۔طلباء کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ حاصل کردہ علم کو بنی نوع انسان کی خدمت بجالانے اور انہیں رستگاری دلانے میں استعمال کریں۔ان کا علم دوسروں کو اسیر کرنے اور ان پر غلامی مسلط کرنے میں استعمال نہیں ہونا چاہیے۔یہ نصیحت جماعت احمدیہ کے سربراہ اعلیٰ ہر ہولی نس مرز اناصر احمد نے کل تعلیم الاسلام احمد یہ سیکنڈری سکول کے طلباء کو ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمائی۔آپ نے ان پر زور دیا کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورے خلوص سے ادا کریں۔آپ نے فرمایا یہ دنیا قائم نہیں رہ سکتی جب تک کہ بنی نوع انسان صحیح معنوں میں دیانتداری کی راہ اختیار نہیں کرتے اور اپنے خالق کے ساتھ زندہ تعلق قائم کرنے کی طرف مائل نہیں ہوتے۔ہنر ہولی نس مرزا ناصر احمد نے جو گھانا کے ایک ہفتہ کے دورہ کے سلسلہ میں دو روز کے لئے کماسی تشریف لائے ہوئے ہیں۔طلباء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر انسان کسی کام میں بھی کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتا۔آپ نے طلباء کو نصیحت فرمائی کہ وہ اپنے مذہبی فرائض اور ذمہ واریوں سے ہمیشہ باخبر رہیں اور پوری تندہی سے انہیں ادا کرنے میں کمی نہ آنے دیں۔ہر ہولی نس نے فرمایا اگر کوئی انسان اپنی چالا کی اور ہوشیاری پر بھروسہ کر کے یہ سمجھتا ہے کہ وہ محض اپنی چالا کی کی وجہ سے کامیاب ہو جائے گا تو یہ اس کی بہت بڑی غلطی ہے۔جو عاقبت نااندیشانہ جسارت پر دلالت کرتی ہے۔ہر شخص اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کے فضل کا تاج ہے۔آپ نے طلباء کو محض مادی دولت اور مادی آسائشوں کے حصول کو اپنا مطمح نظر بنانے کے خطرات سے خبر دار کرتے ہوئے فرمایا یہ بات نہایت ضروری اور بنیادی اہمیت کی حامل ہے کہ تم مادی اشیاء اور مادی آسائشوں کے پیچھے پڑنے کی بجائے روحانی کمال حاصل کرنے کی کوشش کرو۔آپ نے طلباء کو نصیحت فرمائی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں اور اس کے فضلوں پر ایمان لاتے ہوئے اس کے ساتھ اور خود اپنے ساتھ پوری وفاداری کا ثبوت دیں اور اپنے مطمح نظر کو کبھی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیں۔آپ نے انہیں یہ تلقین بھی فرمائی کہ وہ اسلامی نظریات اور تعلیم پر عمل پیرا ہو کر اسے ایک زندہ اور عملی حقیقت ثابت کر دکھائیں اور ہمیشہ عاجزانہ راہیں اختیار