تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 51 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 51

تاریخ احمدیت۔جلد 25 51 سال 1969ء کے ذہین اور طباع طبیعیات دانوں کو اپنی صلاحیتوں کے نکھارنے میں مدد دینے کی غرض سے وقف کر دی۔دیکھا جائے تو اجتماعیت کا یہی شعور اور اس کا مؤثر اظہار ہی زندگی کے مختلف شعبوں کو سنوار نے اور انہیں نئی وسعتوں اور عظمتوں سے ہم کنار کرنے کا وسیلہ بنتا ہے۔پروفیسر عبدالسلام خود سائنس کے فاضل ہیں۔ان کا ایثار اور رہنمائی نظری طبیعیات کی ترقی میں یقیناً قوت محرکہ ثابت ہوگی ہی اس سے بھی بڑھ کر انہوں نے جو مثال قائم کی وہ ہمارے یہاں کے اہل ثروت کو دعوت فکر عمل بھی دے گی۔ہم سائنسی علوم و فنون میں ابھی کتنے پیچھے ہیں اور ہمیں اپنی پس ماندگی کو ختم کرنے کے لئے کیا کچھ کرنا ہے اس کی وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں۔دیکھنا چاہیے کہ پروفیسر عبد السلام کی تقلید میں کون میدان عمل میں اترتا ہے اور کیا مثبت نتائج مرتب ہو پاتے ہیں۔تعلیم القرآن کے نئے دور کا آغاز 166 فروری ۱۹۶۶ء میں حضرت خلیفتہ المسح الثالث نے جماعت کو قرآن کریم کی طرف خاص اور بھر پور توجہ دینے کی تحریک فرمائی جس کے بڑے خوشکن نتائج نکلے تھے۔حضور نے ۲۸ مارچ ۱۹۶۹ء کو اعلان فرمایا کہ تحریک تعلیم القرآن کا پہلا دور ختم ہو گیا اور اب ہمیں ایک نیا دور شروع کرنا چاہیے۔اس ضمن میں جماعت میں ایک مستقل نظام بھی تجویز فرمایا جس کی تفصیل حضور کی زبانِ مبارک سے درج ذیل کی جاتی ہے۔”میری تجویز یہ ہے کہ اصلاح وارشاد میں ایک ایڈیشنل ناظر مقرر ہو جو تعلیم قرآنی اور جو اس کے دیگر لوازم ہیں ان کا انچارج ہو۔مثلاً وقف عارضی کی جو تحریک ہے اس کا بڑا مقصد بھی یہ تھا اور ہے کہ دوست رضا کارانہ طور پر اپنے خرچ پر مختلف جماعتوں میں جائیں اور وہاں قرآن کریم سیکھنے سکھانے کی کلاسز کو منظم کریں اور منظم طریق پر وہاں کی جماعت کی اس رنگ میں تربیت ہو جائے کہ وہ قرآن کریم کا جواً بشاشت سے اپنی گردن پر رکھیں اور دنیا کے لئے ایک نمونہ بن جائیں۔وقف عارضی کا نظام بھی اسی ناظر اصلاح وارشاد کے سپرد ہونا چاہئے اور بہت سی تفاصیل ہیں ان کو تو انشاء اللہ مشاورت میں مشورہ کے ساتھ طے کر لیا جائے گا اور ایک نگران کمیٹی ہوگی جو مشتمل ہونا ظر اصلاح وارشاد، ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد اور ایک تیسرے