تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 50
تاریخ احمدیت۔جلد 25 50 پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کو شاندار خراج تحسین سال 1969ء جیسا کہ ۱۹۶۸ء کے حالات میں ذکر آچکا ہے پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کو ایٹمی تحقیقات کے سلسلہ میں آپ کے گرانقدر کارناموں اور عظیم الشان خدمات کے اعتراف کے طور پر تمیں ہزار ڈالر برائے امن ایوارڈ کا مستحق قرار دیا گیا۔آپ نے اسی وقت اس رقم کو پاکستان کے نظری طبیعیات دانوں کی تحقیق و تدقیق کے لئے وقف کرنے کا اعلان کر دیا۔آپ کے اس جذبہ ایثار اور حب الوطنی کی دنیا بھر میں بہت تعریف کی گئی۔اس سال پریس میں یہ خبر شائع ہوئی کہ پروفیسر صاحب موصوف نے اس غرض کے پیش نظر ایک ٹرسٹ بھی قائم فرما دیا ہے۔جس پر پاکستان کے مشہور روز نامہ امروز (لاہور) نے اپنی ۲۶ مارچ ۱۹۶۹ء کی اشاعت میں لائق تقلید مثال کے زیر عنوان ایک ادار یہ سپرد قلم کیا۔جس میں آپ کو نہایت شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔چنانچہ لکھا:۔لائق تقلید مثال نظری طبیعیات کے بین الاقوامی مرکز (ٹریسٹ) کے ڈائریکٹر پروفیسر عبدالسلام نے پاکستانی طبیعیات دانوں کے لئے ایک ٹرسٹ قائم کیا ہے جس کی آمدنی ترقی پذیر ممالک بالخصوص پاکستان کے نظری طبیعات دانوں کو ٹریسٹ میں تحقیق سے متعلق سہولتیں مہیا کرنے پر صرف ہوگی۔ٹرسٹ کے لئے ابتدائی سرمایہ کے طور پر پروفیسر موصوف نے تیس ہزار ڈالر کی وہ رقم مختص کی ہے جو ۱۹۶۸ء میں انہیں ”ایٹم برائے امن کے انعام میں ملی تھی۔اس کے ٹرسٹیوں میں عالمی شہرت کے سائنس دان شامل ہیں۔اس ٹرسٹ کے بانی اور داعی پروفیسر عبدالسلام طبیعیات میں اپنی نظری مہارت کے اعتبار سے نہ صرف دنیا کے چند گنے چنے سائنسدانوں میں شمار ہوتے ہیں بلکہ اپنی تحقیق اور سائنسی نظریات میں قابل قدر اضافوں کے سلسلے میں بے حد قدر و تکریم کی نگاہ سے بھی دیکھے جاتے ہیں۔غرض پروفیسر صاحب نے جہاں سائنس کے فروغ اور ترویج اور توسیع کے باب میں قابل قدر کردار ادا کر کے سائنسی حلقوں میں ایک منفرد اور بلند مقام حاصل کر لیا ہے، وہاں وہ پاکستان کی سرفرازی کا بھی موجب ہوئے ہیں۔وہ طبیعیات میں اپنے ذاتی جوہر کے بلیغ اظہار پر ہی اکتفا کرتے جب بھی ان کی تحریم و تکریم میں کمی نہ آتی۔لیکن انہوں نے ایثار پیشگی کے باب میں بھی ایک روشن مثال قائم کی ہے۔وہ رقم جو انہیں انعام میں ملی۔انہوں نے اپنی آسودگی پر صرف کرنے کی بجائے ترقی پذیر ملکوں