تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 49
تاریخ احمدیت۔جلد 25 49 سال 1969ء پہاڑی کی مالک، جہاں جماعت کا اپنا ایک ہائی اسٹینڈرڈ سکول ہے۔رہا حال تو جو دوسرے مسلمانوں کا ہے ان جبر و تشدد کے ایام میں وہی ان کا ہے۔وہ بھی بری طرح اسرائیلیوں کے غیض وغضب کا مورد ہیں۔انہیں طرح طرح سے زچ کیا جاتا ہے۔ان کا معاشی بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔بنیادی حقوق کے مطالبہ پر طرح طرح کی سزائیں دی جاتی ہیں۔کبھی کبھار کوئی مصری یا شامی اخبار ان کی داستان درد چھاپ دیتا ہے تو ان کے دکھوں اور مصیبتوں کا علم ہو جاتا ہے اور پھر یہ علم ہوتے ہی اس بات کا قلق اور کرب شدید ہو جاتا ہے کہ ہمارے ہاتھ اتنے بندھے ہوئے ہیں کہ ہم اپنے تمام بھائیوں کے لئے سوائے دعا کے کچھ نہیں کر سکتے “ سب سے آخر پر آپ سے استفسار کیا گیا کہ کیا ان جاں سپار ( مبلغین ) کی جماعت کے لئے جو اپنے آبائی وطن اور اعزہ واقارب سے ہزاروں کوس دور میدانِ جہاد میں اپنے پیارے رب کو پیارے ہو گئے کیا جماعت کی طرف سے ان کی کوئی یاد گار قائم کی گئی ہے؟ ضرور۔یہ ذکر تو بجائے خود ایمان افروز ہے۔اسلام کے ان جانثاروں کے نام تو بلا شبہ تاریخ اعلائے کلمۃ الحق کے روشن ابواب ہیں۔حافظ جمال احمد صاحب، مولوی نذیر احمد علی صاحب، مولوی محمد دین صاحب، مولوی غلام حسین ایاز صاحب اور مرزا منور احمد صاحب۔اللہ تعالیٰ انہیں اپنی خصوصی قربت سے نوازے۔ان کے مرقد آج بھی اپنے جانشینوں کو دین محمدی پر اپنا سب کچھ نچھاور کر دینے کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔مولوی نذیر احمد صاحب سارے مغربی افریقہ کے پہلے رئیس التبلیغ تھے۔غانا اور سیرالیون کے بھی مبلغ انچارج رہے۔۱۹۲۹ء سے ۱۹۵۵ء تک تبلیغ ہی آپ کا اوڑھنا اور بچھونا رہی۔۱۹۵۵ء میں ابد تک کے لئے وہیں کے ہور ہے۔اسی طرح حافظ جمال احمد صاحب ۱۹۲۸ء سے ۱۹۴۹ ء تک ماریشس میں رسول اللہ کے دین کا پرچم بلند کئے رہے اور وہیں جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔میں ان لوگوں کی خدمات کے ذکر کا کس طرح حق ادا کروں؟ ان کا ایثار نفس کشی اور سرفروشی تو ہم سب کے لئے قندیل راہ ہے۔رہیں ان کی مادی یادگاریں تو ان سے حاصل؟ ان کے اسماء گرامی تو تاریخ کے ماتھے پر جلی حروف میں کندہ ہیں بعینہ جس طرح ہمارے دلوں پر نقش ہیں۔مرورِ زمانہ سے ڈھے جانے اور تباہ و برباد ہو جانے والی اینٹوں گارے اور پتھروں کی یادگاریں قلب و روح پر کندہ نقوش کا بھلا کیا مقابلہ کر سکتی ہیں؟ 63