تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 37 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 37

تاریخ احمدیت۔جلد 25 37 سال 1969ء ازاں یہ دعا کثرت سے پڑھنے کا ارشاد فرمایا: رَبِّ كُلُّ شَيْ ءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنَا وَانْصُرْنَا وَارْحَمْنَا ۱۴ فروری ۱۹۶۹ء کے خطبہ جمعہ میں ان دعاؤں میں درج ذیل قرآنی دعا کو بھی شامل کر کے ہدایت فرمائی کہ دوست اسے بھی بکثرت پڑھیں۔رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ ثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ (البقرة: 251) ترجمہ: اے ہمارے رب ہم پر قوت برداشت نازل کر اور ( میدان جنگ میں ) ہمارے قدم جمائے رکھ اور (ان) کافروں کے خلاف ہماری مددکر۔حضور نے اس پر معارف قرآنی دعا کی تفسیر بیان کرنے کے بعد فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ آپ دن میں کم از کم ۳۳ بار یہ دعا کرلیا کریں۔اس پر زیادہ وقت نہیں لگے گا اور یہ کام زیادہ قربانی نہیں چاہتا لیکن اگر آپ ان معانی کو ذہن میں رکھ کر یہ دعا کریں تو یہ بات بڑی برکتوں کا موجب ہوگی۔اس وقت ایک بڑی وسیع اور گہری سازش اسلام کے خلاف ہو رہی ہے جو دراصل پہلے عیسائیت کے خلاف تھی جو بہت حد تک کامیاب ہوگئی۔اب اس نے اپنا رُخ اسلام کی طرف پھیرا ہے اور اس سازش کی تفاصیل جب سامنے آتی ہیں تو انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور انسان کو اپنی کمزوری اور بے بسی کا شدت سے احساس ہونے لگتا ہے اور انسان کا ذہن پریشان ہو جاتا ہے کہ اتنی بڑی بین الاقوامی سازش کا اسلام ہمارے ذریعہ سے ( کیونکہ خدا نے ہمیں اس کام کے لئے منتخب کیا ہے ) کس طرح مقابلہ کرے گا۔تب اللہ تعالیٰ ہمت بڑھانے کے لئے اور عزم کو پیدا کرنے کیلئے اور اپنے وعدوں پر پختہ یقین پیدا کرنے کیلئے ان دعاؤں کی طرف توجہ دلا دیتا ہے اور میرا یہ فرض ہے کہ جماعت کو کہوں کہ یہ دعائیں کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان دعاؤں کے نتیجہ ہی میں اگر وہ خلوص نیت سے کی جائیں اور عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے کی جائیں۔ہمیں ان ذمہ داریوں کو نبھانے کی توفیق عطا کرے گا جو اس نے ہم پر ڈالی ہیں۔ہمیں ہر معنی میں، ہر حالت میں، ہر