تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 36
تاریخ احمدیت۔جلد 25 36 قریب ترلانے کے لئے ہر آن کوشاں رہو۔سال 1969ء اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔آپ کے اخلاص میں برکت دے اور آپ کو اپنی رضا کی راہوں پر چلائے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کا بلا تمیز مذہب و ملت خادم بنایا ہے۔سب سے ہمدردی اور غمخواری سے پیش آئیں اور فتنہ و فساد سے بچیں۔حکومت وقت سے پورا تعاون کریں اور ملک کی ترقی کے لئے ہر آن کوشاں رہیں۔“ حضور کا یہ خصوصی پیغام کا نفرنس میں مولوی محمد صدیق صاحب شاہد امیر جماعت ہائے احمد یہ سیرالیون نے پڑھ کر سنایا جسے حاضرین نے خاص درجہ ذوق وشوق سے سنا۔اس موقع پر اس اہم پیغام کی کا پیاں بھی سامعین میں تقسیم کی گئیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی تعلیم الاسلام کالج میں تشریف آوری فروری کو ساڑھے پانچ بجے شام حضرت خلیفہ اسیح الثالث مسجد تعلیم الاسلام کالج کی جگہ معین کرنے کی غرض سے کالج میں تشریف لائے۔حضور نے مسجد کی جگہ معین کرنے کے لئے کئی مقامات کا معاینہ فرمایا۔اور بالآخر ایک مقام کی تخصیص فرمائی۔حضور نے اس سلسلہ میں متعلقہ ممبران سٹاف کو زریں ہدایات سے بھی نوازا۔بعد ازاں حضور نے ہوسٹل کا معاینہ فرمایا اور کارکنان کو ہدایات سے نوازا۔اس کے بعد حضور ہوسٹل کا من روم میں تشریف لائے جہاں حضور نے طلباء کے ساتھ ٹیبل ٹینس کھیلا۔آخر میں حضور نے طلباء و مبر ان کالج سٹاف کو شرف مصافحہ بخشا۔نماز مغرب سے قبل حضور واپس 56 تشریف لے گئے۔ایک قرآنی دعا کے بکثرت پڑھنے کی تلقین خدائی اور آسمانی جماعتوں کی ترقی اور کامیابی کا راز دعاؤں میں مضمر ہوتا ہے۔خلفاء احمدیت نے اسی حقیقت کے پیش نظر اسلام کے خلاف تمام ظاہری اور باطنی منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیشہ احباب جماعت کو دعا ہی کے موثر ہتھیار کی طرف توجہ دلائی ہے۔اس سلسلہ میں حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے وسط مارچ ۱۹۶۸ء میں یہ تحریک فرمائی کہ دوست کثرت سے سبحان الله و بحمده سبحان اللہ العظیم کا ورد کریں۔اس کے بعد جون میں بکثرت استغفار پڑھنے اور بعد