تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 38
تاریخ احمدیت۔جلد 25 38 سال 1969ء وقت میں صبر کی تو فیق عطا کرے گا ثبات قدم دے گا اور ایسے افعال کی توفیق دے گا کہ جس کے نتیجہ میں اس کی مدد انسان کو مل جاتی ہے۔اگر یہ دعائیں نہ ہوتیں۔اگر اللہ تعالیٰ کا سہارا نہ ہوتا اگر اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں پر یقین نہ ہوتا تو انسان ایک لحظہ کے لئے سوچ نہ سکتا کہ اسلام کے خلاف اتنی عظیم سازش ناکام ہوکر رہ جائے گی۔مجھے ایک اور سازش کی تفاصیل کا ابھی چند دن ہوئے علم ہوا اور جب میں نے پڑھا میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔پھر جب میں نے قرآن کریم کو دیکھا تو ہر وہ بات جس کا ذکر سازش میں کیا گیا ہے اس کا رڈ میں نے قرآن کریم میں پالیا اور اس سے دل کو تسلی ہوگئی کہ اس علام الغیوب نے اس سے قبل کہ اسلام کے خلاف اس پُرانی سازش کی تفصیل کا اظہار ہو ہمارے دل کی تسلی کے لئے اس سازش کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کر کے ان کی ناکامی کے متعلق بشارت یا وعدہ دیا ہوا ہے۔حضرت خلیفۃ اسیح الثالث کا سوشلزم سے متعلق ارشاد 66 ۲۰ فروری ۱۹۶۹ء کو بعد نماز مغرب سیدنا حضرت خلیفہ المسح الثالث مسجد مبارک میں رونق افروز ہوئے اور مختلف امور کا تذکرہ کرنے کے بعد اسلام اور سوشلزم کے بارہ میں ارشادفرمایا:۔مذہب کی طرف ایک رو پیدا ہورہی ہے۔غالباً وہ کمیونزم کے رد عمل کے طور پر ہے۔ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔کئی سال سے روس نے یہ کہنا شروع کیا ہے کہ اسلام اور سوشلزم ایک ہی ہیں اور وہ مصر اور دوسرے عرب ممالک کے علماء سے مضامین لکھوا کر روس سے شائع کرا تا اور انہیں دنیا میں پھیلاتا ہے۔سرمایہ داری میں ذرائع آمد بھی افراد کے پاس ہوتے ہیں یعنی وہ جس طرح چاہیں کمائیں اور خرچ کے ذرائع بھی ان کے پاس ہوتے ہیں۔انہیں آزادی حاصل ہے کہ وہ جس طرح چاہیں خرچ کریں۔کمیونزم نے ذرائع آمد کو محدود کر دیا ہے۔اس نے افراد کو آمد کے ذرائع میں آزادی نہیں دی بلکہ حکومت جو چاہے کسی کو دے۔اس کے مقابل پر اس نے خرچ پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔کوئی فرد جہاں چاہے خرچ کرے۔چاہے وہ شراب پی لے،