تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 349 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 349

تاریخ احمدیت۔جلد 25 349 سال 1969ء ماہ مارچ ۱۹۶۹ء کے آخر میں حکومت کی طرف سے مدرسہ احمدیہ کیلئے ملنے والی زمین کے با قاعدہ کا غذات ملکیت رجسٹرڈ ہو کر ملے۔مشن کی طرف سے تین ماہ کے عرصہ میں اس زمین کے لئے چار دیواری بنادی گئی اور بعد ازاں نقشہ کی تیاری اور منظوری اور پھر مدرسہ کی تعمیر کے کام کا آغاز ہوا۔اس سال جارج ٹاؤن میں بھی حکومت نے احمد یہ مشن کے لئے قطعہ زمین کی منظوری دے دی۔اس کام کے لئے مولوی دا ؤ د احمد حنیف صاحب نے بڑے استقلال اور جوانمردی سے جد و جہد جاری رکھی جو بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔احمدیہ میڈیکل سنٹر مرجع خلائق رہا اور دور و نزدیک سے گیمبیا و سینیگال کے بیمار بغرض علاج آتے رہے۔۳ جنوری ۱۹۶۹ء سے اس کی ایک شاخ پبلک کے مطالبہ پر قصبہ فرافینی میں بھی کھول دی گئی جہاں ڈاکٹر سعید احمد صاحب ہر جمعہ اور ہفتہ کے روز صبح سے شام تک مریضوں کے علاج معالجہ میں مصروف کار رہنے لگے۔جنوری کے آخر میں ہزا ایکسی لینسی گورنر جنرل گیمبیا اندرون ملک کے دورہ پر تشریف لے گئے تو احمد یہ میڈیکل سنٹر کو بھی ملاحظہ فرمایا اور بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ جماعت احمدیہ نے اس ملک اور علاقہ کی ایک حقیقی ضرورت کو پورا کیا ہے۔آپ کے یہ ریمارکس گیمبیا نیوز بلیٹن میں شائع اور ریڈیو گیمبیا سے نشر کئے گئے۔یکم فروری ۱۹۶۹ء کو چوہدری مولوی محمد شریف صاحب انچارج احمد یہ مشن گیمبیا ایک جماعتی کام کے سلسلہ میں ایک ماہر تعمیرات مخلص احمدی با جان صاحب، علی با صاحب کنٹرولر آف کسٹمز اور ایک نوجوان خادم احمد یہ مشن کے ساتھ کار میں ایک ضروری جماعتی کام کے لئے جارہے تھے کہ باتھر سٹ سے پچاسی میل دور کار ایک ٹرک سے ٹکرا کر چکنا چور ہوگئی اور آپ اور آپ کے ساتھی چوٹوں سے بیہوش ہو کر سڑک کے نیچے جا گرے۔بعد ازاں معجزانہ طور پر ایک نوجوان نے انہیں دیکھ کر اپنی کار سے اپنی سواریوں کو وہیں اتار کر انہیں بلا معاوضہ دو گھنٹہ میں باتھرسٹ کے رائل وکٹوریہ ہسپتال میں پہنچا دیا۔ہسپتال والوں نے فوراً طبی امداد دی مگر با جان صاحب جو کار چلا رہے تھے ہسپتال میں داخل ہونے کے دو گھنٹے کے بعد انتقال کر گئے۔جناب چوہدری محمد شریف صاحب اور علی با صاحب پندرہ دن کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج ہوئے اور یکم مارچ سے دوبارہ اپنے فرائض بجالانے لگے۔مولوی محمد شریف صاحب اپنی ایک مطبوعہ رپورٹ میں تحریر فرماتے ہیں کہ اس حادثہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و رحمت اور شفقت کا بھی عجیب جلوہ دکھایا اور ہمارا ایمان بڑھایا۔راتوں رات جنگل سے اٹھا