تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 346
تاریخ احمدیت۔جلد 25 346 سال 1969ء ۱۹۶۸ء کا ایڈیشن منگوایا اور خرید کر مشن ہاؤس لائبریری میں رکھ دیا۔اس کے صفحہ ۲۳۷ پر موت کی علامت Death, Signs of کے تحت لکھا ہے کہ اگر جلد کو کاٹا جائے یا کوئی خون کی رگ بھی کھول دی جائے تو مرنے کے بعد اس میں سے خون نہیں بہتا۔میں نے یہ مقام نکال کر کیتھولک پادری کو دیا جو اپنے ساتھیوں کے درمیان بیٹھا تھا کہ اسے بلند آواز سے پڑھے تا کہ دونوں ساتھی سن لیں۔چنانچہ اس نے پڑھ دیا اور پھر تینوں خاصی دیر تک خاموش رہے کیونکہ کرنتھیوں نمبر ا باب ۱۵ آیت ۱۴ میں لکھا ہے کہ اگر یسوع مرکر جی نہیں اٹھا تو اس کا دین ہی جھوٹا ہے اور یہ امر واقع ہے کہ صلیب سے اتارنے کے بعد اُن رگوں سے خون جاری تھا۔راس سال کی یہ خصوصیت بھی ہے کہ اس میں جماعت احمد یہ منفی کے مخلصین نے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے پانچ طلباء مرکز احمدیت میں بغرض تعلیم بھجوائے جن کے نام یہ ہیں۔فاضل صاحب پسر محمد اسحاق جان خان صاحب ناندی، عبدالمنان صاحب پسر محمد یین صاحب آف ناندی، عبدالصمد صاحب و محمد یونس صاحب پسران محمد یسین حسین صاحب آف ناندی اور محمد شمیم صاحب پسر حاجی رحیم بخش صاحب آف لمباسه - فنجی کے مشہور تعلیمی ادارہ ڈیرک ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کی ۴۵ طالبات کا ایک گروپ جماعت احمدیہ کے تعارف کے لیے مشن ہاؤس آیا جن کے ہمراہ دو ٹیچر ز بھی تھیں۔ایک گھنٹہ کے قریب لیکچر دیا گیا جس کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔حلقہ مارو میں جلسہ سیرت النبی ﷺ کا انعقاد کیا گیا جس میں غیر از جماعت احباب بھی شامل ہوئے۔کینیا 119 ماه جنوری ۱۹۶۹ء میں مولوی امین اللہ خان صاحب سالک نے کینیا ٹاٹرینگ کالج میں اسلام کے موضوع پر آدھ گھنٹہ تقریر کی۔بعد میں قریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک سوال و جواب کا دلچسپ سلسلہ جاری رہا جس میں مولوی عبدالکریم صاحب شر ما امیر ومبلغ انچارج کینیا مشن نے بھی حصہ لیا۔آخر میں طلباء میں اخبارات تقسیم کئے گئے۔پاور اینڈ لائٹنگ سکول نیروبی کی طرف سے دو دفعہ مشن کو تقریر کرنے کی دعوت ملی۔پہلی دفعہ مکرم امین اللہ خان صاحب سالک نے اسلام میں حضرت مسیح کا مقام کے موضوع پر تقریر کی۔بعد میں مولوی شر ما صاحب نے سوالات کے جوابات دیئے۔دوسری مرتبہ اسی سکول میں مولوی شر ما صاحب نے Why Islam کے موضوع پر ایک گھنٹہ تک تقریر کی۔بعد میں ڈیڑھ گھنٹہ تک