تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 310 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 310

تاریخ احمدیت۔جلد 25 310 سال 1969ء لندن کے علاوہ انگلستان کی متعدد دوسری جماعتوں مثلاً ہڈرز فیلڈ نے بھی کامیاب یوم تبلیغ منایا جس کے نتیجہ میں انگلستان کے احمدیوں میں تبلیغ کا زبردست جذ بہ پیدا ہو گیا۔جماعت انگلستان نے پہلا ہفتہ تبلیغ ۸ امئی سے ۲۵ مئی تک منایا۔یہ ہفتہ ریڈیو، ٹیلی ویژن اور پریس سے رابطہ کے لئے مخصوص تھا چنانچہ اس کے دوران برطانیہ کے ہر اخبار اور رسالہ کو تبلیغی خطوط لکھے گئے۔نیز بی بی سی پر خان بشیر احمد صاحب رفیق کی ایک تقریر بھی نشر ہوئی۔علاوہ ازیں متعدد احمدی احباب برطانیہ کے اہم اخبارات کو فرداً فرداً ملنے کے لئے ان کے دفاتر میں پہنچے اور ان پر اسلام کی تعلیمات واضح کیں نیز احمد یہ مشن لندن کی کارگذاری سے ان کو متعارف کرایا۔لندن کے اخبار ویمبلڈن برو( The Wimbledon Borough News) نے خان بشیر احمد صاحب رفیق کا ایک مفصل انٹرویو مسجد فضل اور آپ کی تصویر کے ساتھ نمایاں رنگ میں شائع کیا۔یہ انٹرو یونو مزید اخبارات میں بھی شائع ہوا جل گھم ( کینٹ) کے ایک اخبار نے بھی آپ کی تقریر کے اقتباسات معہ تصویر شائع کئے اور جماعت کا تعارف بھی پیش کیا۔دوسرا ہفتہ تبلیغ اردو دان طبقہ سے مخصوص تھا۔اس غرض کیلئے اردو میں ایک پمفلٹ احمدیت کا پیغام ، دس ہزار کی تعداد میں شائع کیا گیا اور کثرت سے اردو دان حلقوں میں تقسیم کیا گیا جو بہت سے غیر از جماعت پاکستانی دوستوں کی غلط فہمیوں کے ازالہ کا موجب بنا۔رساله الفرقان (مئی ۱۹۶۹ ء) سے پتہ چلتا ہے کہ ان ایام میں ساؤتھ آل لندن میں جناب خان بشیر احمد صاحب رفیق کا ایک پادری صاحب سے وفات مسیح اور رفع الی السماء کے موضوع پر ایک کامیاب مناظرہ ہوا جس کے آخر میں پادری صاحب نے کھڑے ہو کر اقرار کیا کہ امام صاحب کئی پوائنٹس پر ہم سے آگے نکل گئے ہیں لیکن ہم دوبارہ ان کو بلا کر اسی قسم کی محفل منعقد کریں گے۔اس کے علاوہ آپ کے دلائل کا وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔اس سال برطانیہ کی احمدی جماعتوں کا کامیاب چھٹا سالانہ جلسہ ۲۶۔۲۷ جولائی ۱۹۶۹ء کو وانڈ زورتھ ٹاؤن ہال میں ہوا جس میں انگلستان کی اٹھارہ جماعتوں سے پندرہ سو مخلصین نے شرکت فرمائی۔خان بشیر احمد صاحب رفیق نے جلسہ کے انتظامات کے لئے خواجہ رشید الدین صاحب قمر قائد مجلس خدام الاحمدیہ لندن کو انچارج مقرر کیا تھا جنہوں نے اپنے مندرجہ ذیل معاونین بشیر اصغر باجوہ صاحب (ناظم رہائش)، چوہدری اعجاز احمد صاحب (ناظم جلسه گاه)، خالد اختر صاحب (ناظم 74-