تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 19 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 19

تاریخ احمدیت۔جلد 25 19 سال 1969ء والے اعتراضات پر تو حلم اور عفو کا نمونہ دکھلایا۔لیکن جب آپ کے محبوب اور پیارے مسیح موعود علیہ السلام کے شعر کو مورد اعتراض بنایا گیا تو آپ برداشت نہ کر سکے اور بہت ہی قلیل عرصہ میں انتھک کوشش کے ساتھ اساتذہ سلف کے سینکڑوں اشعار آپ نے حضرت مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے شعر کی تائید میں تلاش کئے اور اعتراض کے جواب میں شائع کروائے۔چنانچہ آپ اس بارہ میں خود فرماتے ہیں کہ : دوستوں کے جانے کے بعد میں دیوان حافظ اور دیگر شعراء کے دیوان لے کر بیٹھ گیا اور مؤذن نے فجر کی اذان دی تو کم و بیش ایک سو شعر ایسے تلاش کر لئے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے شعر کی تائید میں پیش کئے جاسکتے تھے۔66 36 اور پھر اسی پر بس نہ کیا بلکہ کم و بیش تین صد اردو اور فارسی اشعار آپ نے اس شعر کی تائید میں شائع کروائے اور ایک لمبا مضمون رسالہ الفرقان ۶۲ - ۱۹۶۱ء میں مختلف اقساط میں اس عنوان سے شائع کروایا۔” قادیانی شاعری“۔رسالہ ” پیام مشرق کے اعتراضوں کا جواب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے المناک سانحہ وفات پر حضرت حافظ صاحب نے گریہ بے اختیار کے زیر عنوان ایک درد انگیز نظم کہی جو رسالہ الفرقان ربوہ اپریل، مئی ۱۹۶۴ء۔قمر الانبیاء نمبر صفہ ۶۲ ۶۳ پر شائع ہوئی۔مولانا شیخ عبد القادر صاحب مربی سلسلہ نے حیات بشیر کے صفحه ۴۳۶ تا ۴۳۸ پر یظم درج فرمائی اور اس سے قبل حسب ذیل نوٹ دیا کہ حضرت حافظ صاحب وہ خوش قسمت بزرگ ہیں جن کے بڑھاپے اور کمزوری کی وجہ سے حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد خود چل کر ان کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے۔اور حضرت حافظ صاحب بھی آپ کی آمد کی قدر و قیمت کو خوب سمجھتے تھے۔اور اس سے حظ بھی اٹھایا کرتے تھے۔حضرت میاں صاحب کے وصال کے بعد ایک مرتبہ آپ نے حضرت میاں صاحب کے ایک پرانے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔میں تو حضرت (میاں بشیر احمد صاحب) کی دلفریب مسکراہٹ کا دیوانہ تھا کوشش کر کے ایسی بات کرتا کہ آپ مسکرا دیں اور میں بے خود ہو جاؤں۔کیونکہ آپ کی مسکراہٹ میں مجھے حضرت مسیح پاک علیہ السلام کی مسکراہٹ کی جھلک نظر آتی تھی۔مجھے خوب یاد ہے۔ایک مرتبہ حضرت میاں صاحب احمد یہ چوک قادیان میں چند خدام کے ساتھ کھڑے تھے۔یہ خادم بھی ذرا ہٹ کر کھڑا تھا۔میں نے محسوس کیا کہ حضرت نے دو تین بار گوشئہ چشم سے میری طرف دیکھا۔میں سمجھ گیا کہ کچھ