تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 20 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 20

تاریخ احمدیت۔جلد 25 20 سال 1969ء ارشاد فرمانا چاہتے ہیں۔میں قریب ہو گیا۔فرمایا ' حافظ صاحب! آپ کی عمر کتنی ہوگی میں تو جب سے یاد پڑتا ہے آپ کو ایسا ہی دیکھتا چلا آیا ہوں۔میں نے عرض کیا حضور! عمر کا اندازہ تو یوں فرمالیں کہ اس غلام نے اپنے آقا ( مراد حضرت خلیفہ اسیح الثانی) کو اسی جگہ جہاں آپ کھڑے ہیں تین چار سال کی عمر میں کھیلتے دیکھا ہے کہ اتنے میں حضرت حکیم الامت حضرت مولانا نورالدین تشریف لائے۔آپ اکڑوں بیٹھنے کے خلاف تھے مگر فرط محبت سے بے ساختہ زمین پر اکڑوں بیٹھ گئے اور بازوؤں میں حضرت محمود کو لے لیا اور فرمایا ”میاں ! آپ کام کاج تو کچھ کرتے نہیں۔سارا دن بس کھیلتے ہی رہتے ہیں۔کس شوکت سے میرے امام نے جواب دیا۔” جب ہم بڑے ہوں گے تو ہم وو بھی کام کریں گے۔حضرت حکیم الامت تو جیسے یہ سن کر کہیں کھو گئے اور فرمایا: ”خیال تو تمہارے پیو کا بھی یہی ہے اور نورالدین کا بھی واللہ اعلم بالصواب اب ہم سوچ میں ڈوب گئے۔باقی تو کچھ پلے پڑ گیا مگر یہ پیڈ سمجھ میں نہ آیا۔آخر کسی دوست نے بتایا کہ پنجابی میں پیڈ باپ کو کہتے ہیں۔تب ہم تہہ کو پہنچے۔حضرت قمر الانبیاء نے یہ سنا تو تبسم فرمایا اور ہم سیر ہو گئے۔وفات اور تدفین حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب مختار شاہجہانپوری کی پوری زندگی تبلیغ دین کے مسلسل جہاد میں گزری۔آپ بلاشبہ تبلیغ و تربیت کے میدان میں بے نفس خدمت کرنے والے بزرگ تھے۔آپ کو نظام الوصیت سے وابستہ ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔آپ کا وصیت نمبر ۱۴۸۰۲ تھا۔آپ ۸ جنوری ۱۹۶۹ء کو رحلت فرما کر اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔وفات کے بعد سیکرٹری صاحب مجلس کار پرداز ربوہ کو معلوم ہوا کہ آپ کے ذمہ بقایا حصہ آمد دوسوروپے (۲۰۰) ہے جس پر حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے اپنی جیب خاص سے دوسوروپے ادا فرما دئیے۔ازاں بعد اگلے روز حضور ہی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی جس میں اہل ربوہ کے علاوہ لا ہور ، سرگودھا اور بعض دیگر مقامات کے مخلصین جماعت شریک ہوئے۔حضور نے نماز جنازہ کو کندھا دیا اور تابوت کو قبر میں اتارنے میں علماء سلسلہ کے علاوہ حضور نے بھی حصہ لیا اور آپ بہشتی مقبرہ میں صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لیے مخصوص قطعہ میں سپردخاک کر دیئے گئے۔