تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 18 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 18

تاریخ احمدیت۔جلد 25 18 سال 1969ء بہت بڑا بادشاہ ہے اس کے آگے تو بڑے بڑے عالی مرتبہ راجے اور نواب بھی یہ بات کہنے کی جرات نہیں کر سکتے۔میری کیا مجال ہے۔اس کو بھلا میرے جیسے معمولی آدمی کی خواہش کی کیا پرواہ ہو سکتی ہے یہ نہیں ہوسکتا وہ تو بادشاہ ہے۔اس کی مرضی ہے کسی کو ملاقات کا موقع دے یا نہ دے۔اس پر حافظ صاحب نے فرمایا۔کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ جارج ششم سے چھوٹا ہے۔وہ تو سب بادشاہوں کا بادشاہ بلکہ تمام کائنات کا خالق اور مالک ہے اس کی بھی مرضی ہے کسی کو ملے یا نہ ملے یا جب چاہے ملے۔یہ سن کر آرچرڈ صاحب کی کچھ تشفی ہوگئی اور وہ خاموش ہو گئے۔پھر اگلے روز جب آئے خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔کیونکہ اسی روز سحری کے وقت ان کی آرزو پوری ہوگئی تھی۔۱۹۴۷ء میں آپ ہجرت کر کے پاکستان تشریف لے آئے اور لاہور میں جو دھامل بلڈنگ کے ایک بالائی کمرہ میں اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا زور و شور سے آغاز کر دیا۔ازاں بعد آپ مستقل طور پر دارالہجرت ربوہ میں تشریف لے آئے اور پہلے سید عبد الباسط صاحب نائب معتمد مجلس خدام الاحمدیہ ر مرکزیہ کے کوارٹر میں اور پھر صدرانجمن احمدیہ کے ایک کوارٹر میں قیام فرمار ہے اور حسب معمول دیوانہ وارا شاعت حق میں سرگرم عمل رہے اور قلمی جہاد کو بھی جاری رکھا۔اور تاریخ احمدیت کی پہلی چھ جلدوں پر لفظ لفظا نظر ثانی فرمائی اور حیات نور مؤلفہ شیخ عبد القادر صاحب فاضل کا مسودہ اوّل سے آخر تک سنا اور قیمتی راہنمائی فرمائی۔اپریل ۱۹۶۱ء کے رسالہ ” پیام مشرق“ لاہور میں ابو حماد صاحب رشید کا ایک مضمون ” قادیانی شاعری“ کے عنوان سے شائع ہوا جس میں جماعت احمدیہ کے بعض شعراء پر اعتراضات کئے گئے کہ انہوں نے اپنی نظموں میں غلط الفاظ اور غلط تراکیب استعمال کی ہیں اور سب سے بڑی غلطی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام سے قرار دی۔چنانچہ انہوں نے لکھا: اس میں بھی شک نہیں کہ مرزا صاحب کے کلام میں زبان و بیان کی بے شمار غلطیاں موجود ہیں اور ان غلطیوں میں کہتا کی وہ غلطی تو شاہکار کا درجہ رکھتی ہے جسے مولانا ظفر علی خان نے حیات جاوید بخشی ہے۔اک برہنہ سے نہ ہوگا کہ تا باندھے ازار یہ کہ تا ہے شاہ کار شاعران قادیاں حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری نے اپنے یا کسی دیگر شاعر احمدیت پر کئے جانے