تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 266 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 266

تاریخ احمدیت۔جلد 25 266 سال 1969ء کے مکان اور مویشی تک نیلام ہو گئے اور آپ معصوم لڑکی کو واپس لانے میں کامیاب ہوئے۔غرباء پروری آپ کا خاص وصف تھا۔نظام سلسلہ کے خلاف کوئی بات برداشت نہ کر سکتے تھے اور ان کی 135 ساری زندگی نظم وضبط سے عبارت تھی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے جب وقف زندگی کی تحریک فرمائی تو آپ نے زندگی وقف کر دی اور عرصہ تک ضلع جہلم اور سیالکوٹ میں فریضہ تبلیغ ادا فرماتے رہے۔فراغت کے بعد بھی تبلیغ ہی آپ کا اوڑھنا بچھونا تھا۔مسجد کی آبادی کا آپ کو بہت خیال رہتا تھا۔نماز فجر سے پہلے رستہ میں احمدیوں کو جگاتے۔ایک دن مسجد میں چراغ روشن نہ تھا۔چشم پر آب ہو کر فرمایا خانہ خدا میں اندھیرا! پیسے پاس نہ تھے۔ایک آدمی سے کئی سیر تیل قرض لے کر مسجد میں رکھوا دیا۔مسجد کی ملحقہ زمین میں ایک کمرہ تعمیر کروایا۔بعد میں وہاں نلکا اور دروازے بھی لگوا دیے۔غرباء پروری آپ کا خاص وصف تھا۔ایک دن ایک غریب آدمی کے گھر گئے۔دیکھا کہ سردی کے مارے اس کا برا حال ہے۔اپنا گرم بستر اٹھا کر اس کے گھر رکھ آئے۔آپ کی اہلیہ نے کہا خود کیا کرو گے۔فرمایا میں چادر میں گزارا کرلوں گا۔رقیہ بیگم صاحبہ اہلیہ چوہدری محمد یوسف صاحب غوث گڑھی احمد نگر (وفات: ۱۲نومبر ۱۹۶۹ء) 136- آپ ۱۸۹۴ء میں پیدا ہوئیں۔آپ نے ایک خواب کی بناء پر حضر خلیفہ اسیح الثانی کے زمانہ میں ۱۹۱۷ء میں احمدیت قبول کی ۱۹۲۴ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے سفر یورپ اختیار کیا اور عورتوں سے مسجد لنڈن کے لئے چندہ دینے کا ارشاد فرمایا تو آپ نے اپنا سارا زیور خانہ خدا کی خاطر وقف کر دیا۔آپ اہل حدیث فرقہ کے ایک جید عالم کی بیٹی تھیں۔۱۸۹۴ء میں آپ کی پیدائش کے وقت جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی جا چکی تھی اور مخالفت زوروں پر تھی۔اس لئے آپ کے خاندان کا بھی جماعت کی مخالفت کرنا دور از قیاس نہ تھا۔آپ کے گاؤں غوث گڑھ ریاست پٹیالہ میں احمدیت حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری کے ذریعہ آئی۔خلافت ثانیہ کا دور تھا مگر آپ کا خاندان ابھی احمدیت سے محروم تھا کہ آپ کی شادی چوہدری یوسف صاحب نمبر دار سے طے پاگئی۔بارات میں اہل حدیث اور احمدی مخلوط افراد شامل تھے۔جب آپ کے خاندان کے بعض احمد یوں نے اپنی نماز علیحدہ پڑھی تو شور مچ گیا اور متعصب افراد نے یہ خبر آپ کے والد صاحب تک پہنچادی اور یہ سکیم تیار کی کہ