تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 267
تاریخ احمدیت۔جلد 25 267 سال 1969ء نکاح سے قبل محتر مہ رقیہ بیگم صاحبہ کے سر سے حلف لیا جائے کہ وہ احمدی نہیں ہیں۔ان کے اس امر کا حلف دینے پر نکاح ہوا۔شادی کے بعد آپ کے خاوند مکرم چوہدری محمد یوسف صاحب نے حضرت چوہدری عطاء اللہ صاحب سے قرآن مجید پڑھنا شروع کیا۔قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے کرتے صداقت اثر کر گئی اور آپ نے بیعت کر لی۔جب یہ خبر آگ کی مانند پھیلتی ہوئی مکرم محمد یوسف صاحب کے گھر پہنچی تو آپ شدید مخالفت پر اتر آئیں اور ہر قسم کا بائیکاٹ کیا۔زمیندارہ ماحول میں کھانا بند کر دیا گیا۔خاوند کی اندرونی و بیرونی امداد بند کر دی گئی تھی کہ کلام تک نہ کرتی تھیں۔مکرم محمد یوسف صاحب کے والد صاحب ناراض ہو کر گھر کو خیر باد کہہ گئے۔جب مخالفت شدت اختیار کر گئی اور کئی ماہ کا عرصہ گزر گیا تو حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری آپ کے گھر تشریف لائے اور مکرمہ رقیہ بیگم صاحبہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آپ استخارہ کریں اور اللہ تعالیٰ سے صداقت ڈھونڈیں۔آپ کو یہ تجویز پسند آئی اور اگلے روز استخارہ شروع کر دیا اور خواب کی بناء پر آپ نے بیعت کر لی۔آپ کی بیعت کا علم جب آپ کے سسر صاحب کو ہوا تو وہ گھر واپس آگئے اور کچھ عرصہ بعد سلسلہ احمدیہ میں شامل ہو گئے۔قبول احمدیت کی خبر آپ کے میکے والوں پر بجلی کی طرح گری۔ان کے نزدیک ان کی ناک کٹ گئی۔آپ کے والد صاحب اس خبر کے صدمہ کو برداشت نہ کر سکے۔یہ خبر سنتے ہی بیٹی کا ہمیشہ کے لئے بائیکاٹ کر دیا اور خود بیمار ہو گئے۔اس کے بعد تیرہ سال زندہ رہے لیکن باپ بیٹی ایک دوسرے کی شکلوں کو بھول چکے تھے۔باپ اپنی ظاہری عزت کے خاک میں ملانے کا رونا رورہا تھا اور بیٹی کے پائے ثبات میں ذرا بھی لغزش نہ آئی۔آخر ایک ایک کر کے تیرہ سال ختم ہوئے اور آپ کے والد صاحب کی وفات ہوگئی۔۳ فروری ۱۹۵۸ء کو آپ کے شوہر کا انتقال ہو گیا۔آپ کے میکے والوں نے اس عرصہ میں بھی پوری کوشش کی کہ آپ کو کسی نہ کسی طریق سے سسرال سے لے جائیں اور عقائد بدل دیں مگر آپ احمدیت پر مضبوطی سے قائم رہیں۔جناب محمد سلطان صاحب ظفر کینیڈا ابن ماسٹر محمد عیسی ظفر صاحب کا بیان ہے:۔محترمہ رقیہ بی بی صاحبہ نظام وصیت میں بھی شامل ہوئیں۔آپ کا وصیت نمبر ۴۱۶۱ تھا۔نیز آپ تحریک جدید دفتر دوم کی مجاہدہ بھی تھیں۔آپ ایک دعا گو اور صوم وصلوٰۃ کی پابند خاتون تھیں۔آپ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کیا کرتی تھیں کہ وہ آپ کو اپنی اولاد کے کم از کم دو دو بچے دیکھنا ضرور نصیب کرے۔ہمارے والد صاحب کے تمام بہن بھائیوں کے ہاں تو اللہ کے فضل وکرم سے دو سے