تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 265
تاریخ احمدیت۔جلد 25 265 سال 1969ء پر لبیک کہتے ہوئے خانصاحب نے اپنی سرکاری ملازمت چھوڑ کر اسلام کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو حضور کی خدمت میں پیش کر دیا۔حضور نے خانصاحب کو پہلے انگلستان اور بعد میں جرمنی میں مبلغ مقرر فرمایا۔فریضہ تبلیغ کی بجا آوری کے بعد خانصاحب جنوری ۱۹۲۵ء میں اپنے وطن واپس تشریف لے آئے اور دوبارہ محکمہ تعلیم میں ملازمت اختیار کر لی اور اس دوران میں بھی دن رات احمدیت کی تبلیغ میں مشغول رہے۔۱۹۴۰ء میں آپ مشرقی بنگال کے صوبائی امیر مقرر ہوئے اور ۱۹۵۰ء تک اس عہدے پر فائز رہے اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔برکت علی خاں صاحب برمی (وفات: ۷ نومبر ۱۹۶۹ء) 133 آپ نے ۱۸۹۰ء یا ۱۸۹۲ء میں حضرت مسی موعود علیہ السلام کی زندگی میں بیعت کی تھی۔مگر چھٹی نہ ملنے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت سے محروم رہے۔حضرت خلیفہ امسیح الاول کے زمانہ میں قادیان آگئے اور دستی بیعت کی۔خلافت ثانیہ میں عمر کا بیشتر حصہ برما میں گذارا۔۱۹۴۲ء میں برما پر جاپان نے حملہ کیا تو آپ بیوی بچوں سمیت وہاں سے پیدل چل پڑے اور بہت سی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے قادیان پہنچے اور وہیں مقیم ہو گئے۔تقسیم ملک کے بعد آپ نے گجرات میں رہائش اختیار کی۔آپ نے سات بیٹے اور پانچ بیٹیاں یادگار چھوڑے۔آپ موصی تھے۔چوہدری محمد عالم صاحب صدر فتح پور ضلع گجرات (وفات: ۱۲ نومبر ۱۹۶۹ء) 134- ۱۹۳۲ء میں داخل احمدیت ہوئے۔اپنی پوری لائبریری جو قیمتی اور نایاب کتب پر مشتمل تھی مقامی جماعت کی لائبریری کے لئے وقف کر دی۔فتح پور مڈل سکول کو ہائی سکول کا درجہ دینے کے لئے آپ نے دن رات ایک کر کے نئے کمرے تعمیر کرائے۔ایک سکول ماسٹر نے کہا کہ چوہدری محمد عالم اس علاقہ کے سرسید ہیں جو قوم کے نونہالوں کے ہمدرد اور خیر خواہ ہیں۔بہت سے طلباء کی فیس اپنی گرہ سے دیتے۔چند او باش لوگوں نے ایک لڑکی اغوا کر لی آپ نے اس کے برآمد کرنے کا تہیہ کر لیا۔اوباشوں نے چیلنج دیا کہ ہم تمہارا خاتمہ کر دیں گے۔آپ نے فرمایا خواہ میری لاش کتے گھسیٹتے پھریں میں لڑکی کو ضرور برآمد کر کے رہوں گا۔آپ نے ان بد معاشوں کا اس رنگ میں ڈٹ کر مقابلہ کیا کہ ان