تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 264
تاریخ احمدیت۔جلد 25 264 سال 1969ء انجمن کی تحویل میں دے دیا۔جس پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے خوشنودی کا اظہار فرمایا۔۱/۳حصہ کی وصیت کی اور تمام رقم اپنی زندگی میں ہی ادا کر دی۔تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں شامل تھے۔آپ کی امانتاً تدفین دارالسلام افریقہ میں ہوئی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے آپ کی نماز جنازہ غائب پڑھائی اور احباب جماعت کو بھی ارشا د فر مایا کہ مرحوم کا جنازہ پڑھیں۔یونس الوگوس (Olughose) (وفات: اکتوبر ۱۹۶۹ء) احمد یہ جماعت ابیوکوٹا (Abeokuta) نائیجیریا کے ایک مخلص احمدی تھے جو چار فوجی سپاہیوں کے ہاتھوں اکتوبر ۱۹۶۹ء میں شہید کر دیئے گئے۔صوم وصلوٰۃ کے پابند تھے اور چندوں میں پیش پیش رہتے تھے۔5 میاں محمد یوسف صاحب پشاوری ککے زئی ساکن کو ٹلہ فیل ہانہ پیشاور (وفات اارا کتوبر ۱۹۶۹ء) اہل حدیثوں سے جنوری ۱۹۲۴ء میں احمدیت سے وابستہ ہوئے اور باوجود مذہبی تعلیم کم ہونے کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ کی برکت سے مبلغ بن گئے۔قبول احمدیت کے باعث بہت تکالیف اور مشکلات برداشت کیں۔پیغام حق پہنچانے کا انہیں غیر معمولی شوق بلکہ جنون تھا۔تبلیغی اشعار سنانے کے باعث لوگوں کی توجہ کا خاص مرکز بن جاتے تھے۔برجستہ جواب دیتے تھے۔گفتگو میں لطیف مزاح کا رنگ تھا۔132 مولوی مبارک علی صاحب بی اے بی ٹی سابق مجاہد جرمنی ( وفات یکم نومبر ۱۹۶۹ء) آپ ۱۹۱۳ء میں قادیان جا کر حضرت خلیفہ اول کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمد یہ میں داخل ہوئے اور قادیان میں ایک عرصہ تک مقیم رہ کر حضرت خلیفہ اسیح الا قول سے دینی تعلیم حاصل کرتے رہتے پھر بعد میں اپنے وطن بنگال واپس جا کر شب و روز تبلیغ احمد بیت میں مصروف رہے۔ازاں بعد جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اپنے ابتدائی زمانہ خلافت میں جماعت کے انگریزی داں نو جوانوں کو اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کے لئے اپنی زندگیاں وقف کرنے کی تحریک فرمائی تو اس تحریک