تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 216
تاریخ احمدیت۔جلد 25 216 سال 1969ء کرنے کے بعد تعلیم کا سلسلہ بند ہو گیا۔بچپن سے پنجگانہ نمازی تھے۔ہمارا گاؤں (کڑی افغاناں ڈاکخانہ خاص کا ہندووان نز د قادیان) قادیان کے قریب ہی صرف چار میل کے فاصلہ پر تھا۔چونکہ آپ کو تعلیم کا بہت شوق تھا اس لئے آپ نے قادیان کا رخ کیا اور قادیان جاتے ہی ان کا حضرت مولوی شیر علی صاحب اور حضرت خلیفہ اول جیسے بزرگوں سے تعلق قائم ہو گیا۔جنہوں نے ان کی تمام ضروریات اور پڑھائی کا بوجھ برداشت کیا۔مرحوم وہاں رہ کر تعلیم حاصل کرنے لگے۔اکثر اوقات حضرت خلیفہ اول اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت کا بھی شرف حاصل ہوا۔حق کی شناخت کے لئے بہت دعائیں کرتے تھے۔بالآخر دو تین خوابوں میں اللہ تعالیٰ سے بشارت پانے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک پر ۱۹۰۶ء میں بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے۔دورانِ تعلیم میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریک اور حکم کے مطابق منارة المسیح کے لئے چندہ دیا اور ان کا نام منارۃ اُسیح میں 11 نمبر پر کندہ کیا گیا۔آخر تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ کو بمقام کا ٹھگڑھ ضلع ہوشیار پور مڈل سکول کے ہیڈ ماسٹر کی ملازمت ملی۔فرمایا کرتے تھے کہ ” مجھے ملازمت تو مل گئی لیکن تسکین قلب نہ حاصل ہوئی کیونکہ میں قادیان میں رہ کر سلسلہ کی خدمت کرنے کی خواہش رکھتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کرتے ہوئے جلد ہی قادیان میں مستقل رہائش کے سامان پیدا کر دئیے آپ بیمار ہو گئے۔پانچ چھ ماہ تک نور ہسپتال قادیان میں حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب جیسے پاکباز بزرگ کے زیر علاج رہ کر صحت یاب ہو گئے اور دوران بیماری ڈاکٹر صاحب موصوف کے زیر سایہ ڈسپنسر کا کام سیکھنا شروع کر دیا۔چونکہ آپ بہت محنت اور دلچسپی سے کام سیکھتے تھے اس لئے حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب بھی شفقت اور محبت سے راہنمائی فرماتے اور آخر نور ہسپتال میں ہی مستقل کمپونڈ ر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے لگے اور تینتیس سال کی خدمت کے بعد پنشن لی۔دوران ملا زمت آپ کو خاندان حضرت مسیح موعود ، صحابہ کرام اور بزرگان سلسلہ و دیگر جماعت کے افراد کی خدمت کا موقع ملا۔ہمیں یاد ہے کہ آپ کئی کئی دن گھر نہ آتے اور ہسپتال میں کھانا منگوا لیتے۔اکثر اوقات ہسپتال سے رات کے دس گیارہ بجے گھر آنا ان کا معمول تھا۔کیونکہ اس وقت شاف بہت کم تھا اس لئے رات کو دفتری کام بھی آپ ہی مکمل کیا کرتے تھے اور پھر چابیاں وغیرہ پاس ہوتی تھیں۔جب بھی کوئی دوائی لینے آتا تو فورا دوائی اسے دیتے۔کئی دفعہ اکثر بزرگوں اور دوستوں کے گھر