تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 215 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 215

تاریخ احمدیت۔جلد 25 215 سال 1969ء 36- مکان میں اکٹھے ہو جاتے بچے اور مستورات تو آپ کا گھر اپنا گھر ہی سمجھتے تھے۔بے تکلف وہاں چلے جاتے۔وہاں سب کو راحت اور سکون میسر آتا۔آپ کے بیٹے مکرم محمد بشیر صاحب لکھتے ہیں کہ باوجود دو شادیوں کے کوئی اولاد نرینہ نہ ہوتی تھی۔گیارہ لڑکیوں کی پیدائش کے بعد آپ کی والدہ محتر مہ روشن بی بی صاحبہ نے ایک لڑکی کی پیدائش پر آپ کو کہا کہ میں تو اللہ پاک سے ہر وقت دعا کرتی رہتی ہوں کہ آپ کے گھر لڑکا ہو۔مگر اللہ تعالیٰ میری دعائیں قبول ہی نہیں کرتا۔مرحوم نے عرض کیا کہ اللہ تعالی کے در سے نا امید نہیں ہونا چاہیئے۔آپ کی دعائیں ضرور اللہ تعالیٰ قبول کرے گا۔بعد میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خاص دعا سے خاکسار کی پیدائش ہوئی اور اب ہم تین بھائی ہیں۔آپ کی عادت تھی کہ ہفتہ میں ایک خط دعا کیلئے خلیفہ وقت کی خدمت میں ضرور لکھا کرتے۔ایک دفعہ کسی وجہ سے آپ نے خط لکھنے میں دیر کر دی تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے خط کے جواب میں فرمایا کہ اب آپ نے بڑی دیر کے بعد خط لکھا ہے۔حضور کا خط پڑھ کر والد صاحب بہت خوش ہوئے کہ حضور نام سے واقف ہیں۔اولاد ملک محمد بشیر صاحب سابق انسپکٹر مجلس انصار اللہ پاکستان۔ملک محمد احمد صاحب سابق آڈیٹر ضلعی مجلس عاملہ سرگود با حال مقیم مسلم ٹاؤن نمبر ا فیصل آباد۔ملک مبشر احمد صاحب۔اقبال بیگم صاحبہ اہلیہ ملک فضل احمد صاحب سابق صدر جماعت احمد یہ گھوگھیاٹ۔حامدہ بیگم صاحبہ اہلیہ ملک محمد اکبر صاحب محمودہ بیگم صاحبہ اہلیہ ملک سعی محمد صاحب - حفیظہ بیگم صاحبہ اہلیہ چوہدری محمد یوسف صاحب دار الرحمت وسطی ربوہ صادقہ بیگم صاحبہ اہلیہ ملک علی محمد صاحب۔ناصرہ بیگم صاحبہ اہلیہ ملک محمد بشیر صاحب سرگودہا۔رضیہ بیگم صاحبہ اہلیہ حکیم ریاض احمد صاحب سابق صدر جماعت احمد یہ دودہ ضلع سرگودہا۔حضرت صوفی محمد یعقوب صاحب قندھاری کمپونڈ ر نور ہسپتال قادیان ولادت : ۱۸۹۱ء زیارت : ۱۹۰۶ ء بیعت : ۱۹۰۸ ء وفات : ۲۷ اگست ۱۹۶۹ء آپ میاں غلام بلورے شاہ صاحب کے فرزند تھے۔آپ کے بیٹے جناب نصر اللہ صاحب صاحب رمطراز ہیں:۔”میرے والد حضرت صوفی محمد یعقوب صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔بچپن میں ہی والدین کے سایہ شفقت سے محروم ہو گئے اور ان کی پرورش ان کے بچوں نے کی۔مڈل