تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 214
تاریخ احمدیت۔جلد 25 214 سال 1969ء جانے کا ارادہ کر لیا۔میں نے ایک چھوٹی بچی کے ہاتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک عریضہ بھجوایا۔اس میں لکھا کہ حضور مجھے گھر واپس جانے کی اجازت عطا فرمائیں۔نیز دعا فرمائیں کہ اللہ تعالی داڑھ کا درد دور کر دے اور میں بخیریت اپنے گھر پہنچ جاؤں۔حضور علیہ السلام نے اجازت کا پیغام بھجوایا اور ساتھ ہی فرمایا اللہ تعالی آپ کو آرام سے گھر پہنچائے اجازت لیکر جب قادیان سے رخصت ہوا تو ابھی تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ داڑھ کے درد سے بالکل آرام آ گیا اور پھر آج تک ایسا درد نہیں ہوا۔معمول کے مطابق بٹالہ سے بذریعہ ریل روانہ ہو کر مجھے اگلے روز میانی گھوگھیاٹ پہنچنا تھا۔میں قادیان سے صبح روانہ ہوا اور گیارہ بجے کے قریب بٹالہ پہنچا۔وہاں گاڑی تیارتھی اس میں بیٹھ کر امرتسر پہنچا۔وہاں جا کر کیا دیکھتا ہوں کہ خلاف توقع ڈاک گاڑی ابھی اسٹیشن پر ہی موجود ہے۔چنانچہ میں ڈاک گاڑی میں سوار ہو کر لالہ موسیٰ ملک وال کے راستے اسی روز شام کو میانی گھوگھیاٹ پہنچ گیا۔اللہ تعالی نے حضور علیہ السلام کی دعا کی برکت سے ایسے سامان بہم پہنچائے کہ میں اگلے دن پہنچنے کی بجائے اسی دن شام کو آرام سے گھر پہنچ گیا اور پھر داڑھ کا درد بھی جاتا رہا۔آخر میں ایک بات جو نہایت ایمان افروز ہے بیان کرتا ہوں اور وہ یہ کہ جب ہم بٹالہ سے یکہ پر قادیان جاتے تو چونکہ سڑک کچی تھی تو اس لئے راستہ میں دھول اڑتی۔ادھر قادیان میں لوگوں کی بکثرت آمد و رفت کی وجہ سے یکے اکثر چلتے رہتے تھے۔راستے میں اکثر سکھ کہا کرتے تھے کہ:۔766 او بلے بلے مرجیا تیریاں مریداں نے تے سڑک ہی پٹ دتی اے یعنی شاباش مرزا تیرے مریدوں نے تو چل چل کر سڑک ادھیڑ دی ہے۔آخر وہ دن بھی آئے کہ ریلوے لائن بن جانے کی وجہ سے جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان پیشل گاڑیاں پہنچنے لگیں۔گاڑیوں میں بھیٹر کا یہ عالم ہوتا تھا کہ جگہ بھی مشکل سے ملتی تھی۔حضرت ملک صاحب تقسیم سے پہلے قادیان میں جلسہ سالانہ پر اہتمام سے جایا کرتے۔دسمبر میں خصوصاً آخری ہفتہ میں جب اپنے مخصوص پُر وقار لباس میں ملبوس سر گرم عمل نظر آتے تو ان کے نشست و برخاست سے صاف پتہ چلتا کہ مسیح پاک کے مہمان دارالامان جانے کی تیاری میں ہیں۔گداز دل کے مالک تھے منکسر المزاج اور ہمدرد ، گاؤں کے بزرگان میں سے تھے۔چھوٹے بڑے سب احترام کرتے اور باپ سمجھتے۔حد درجہ مشفق تھے۔بہت محبت سے پیش آتے۔خواہ گاؤں کا غریب ترین آدمی کیوں نہ ہو۔جب سیلاب آتا تھا اور گاؤں کے اردگرد پانی بھر جاتا لوگ آپ کے