تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 213
تاریخ احمدیت۔جلد 25 213 سال 1969ء سنانا شروع کیا۔میں نے کہا کہ یہ پلاؤ جواب میں کھا رہا ہوں عرصہ پہلے خواب میں کھا چکا ہوں۔وہ بزرگ جنہوں نے خواب میں مجھے پیار کرنے کے بعد کھانا کھانے کے متعلق ارشاد فرمایا تھاوہ حضرت صحیح موعود علیہ السلام ہی تھے۔محترم بابو صاحب مرحوم یہ خواب سن کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا آپ کی خواب تو خوب پوری ہوئی۔ہمارے کھانا کھانے کے کچھ دیر بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اصحاب کے ہمراہ کچہری تشریف لے گئے۔ہم تینوں بھی ساتھ ہو لئے۔کچہری کے آگے ایک سڑک تھی حضور علیہ السلام اس پر ٹہلتے رہے۔وقفہ وقفہ کے بعد دودفعہ حضور علیہ السلام نے پانی طلب فرمایا۔ہر دفعہ حضور علیہ السلام نے چند گھونٹ ہی بیٹے اور باقی پانی واپس کر دیا جسے تمام دوستوں نے گھونٹ گھونٹ پیا۔الحمد للہ کہ تبرک کے طور پر ایک گھونٹ پانی پینے کی مجھے بھی سعادت نصیب ہوئی۔کچہری سے فارغ ہونے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو رتھ کے ذریعہ قادیان تشریف لے گئے اور ہم بذریعہ ریل گاڑی بٹالہ ہوتے ہوئے قادیان پہنچے۔قادیان پہنچ کر مجھے حضور علیہ السلام کے دست مبارک پر بھی بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔فالحمد للہ علی ذلک۔حضور نماز ظہر کے بعد اکثر مسجد میں کافی دیر تشریف فرما رہتے اور احباب سے گفتگو فرماتے۔ہم بھی مجلس میں حاضر رہ کر حضور علیہ السلام کے ارشادات سے مستفیض ہوتے۔ایک دن باہر سے ایک شخص آیا۔اس نے عرض کیا حضور طاعون بہت پھیل رہی ہے۔فلاں شہر میں اتنی موتیں ہو چکی ہیں۔بڑی تباہی پھیلی ہوئی ہے۔حضور علیہ السلام نے اس شخص کی بات سن کر فرمایا اس تباہی سے بڑھ کر تباہی آئے گی۔حضور علیہ السلام نے انگشت شہادت کے ساتھ گردن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا سر الگ اور دھڑا الگ ہوں گے۔یہ نظارہ بھی ہم نے ۱۹۴۷ء کے فسادات میں بچشم خود دیکھ لیا۔ان دنوں حضرت خلیفتہ اسیح الاول روزانہ قرآن مجید کا درس دیا کرتے تھے۔محترم بابو فخر الدین صاحب مرحوم تو چند دن رہنے کے بعد اپنی ملازمت پر میاں میر لاہور چلے گئے اور ہم دونوں یعنی خاکسار اور حکیم حمد صدیق صاحب تقریباً پندرہ دن قادیان میں ٹھہرے رہے اور باقاعدگی سے حضرت خلیفہ اُسی الاول کا درس سنتے رہے۔آپ ہم سے بہت محبت کے ساتھ پیش آتے اور اکثر فرماتے یہ بچے ہمارے وطن (یعنی بھیرہ میانی) کے ہیں۔انہی دنوں ایسا اتفاق ہوا کہ میری داڑھ میں شدید درد کی تکلیف رہنے لگی۔حضرت خلیفہ اول بڑی ہمدردی اور محبت کے ساتھ علاج کرتے رہے۔درد بھی رفع نہیں ہوا تھا کہ میں نے گھر واپس