تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 199
تاریخ احمدیت۔جلد 25 199 سال 1969ء آپ اُن نامور خواتین میں سے تھیں جو سلسلہ احمدیہ کے ابتدائی دور میں تعلیم یافتہ تھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں بھی اخبار بدر اور الحکم میں مضامین لکھا کرتی تھیں۔۱۹۰۸ء کے جلسہ سالانہ کے بعد آپ نے اپنے میاں کے ساتھ مستقل طور پر قادیان میں سکونت اختیار کی اور حضرت خلیفہ اول کے ارشاد پر جون ۱۹۰۹ء میں مرکز احمدیت میں بچیوں کا پہلا پرائمری سکول قائم کیا اور ایک لمبے عرصہ تک اس کی ہیڈ معلمہ رہیں اور بہت سی بچیوں کو زیور علم سے آراستہ کیا۔یہ سکول خلافت ثانیہ کے عہد مبارک میں مڈل سکول تک ایک مشہور ادارہ بن گیا جس سے ملک کے علمی حلقوں میں آپ کی بھی خوب شہرت ہوئی۔اور ڈسٹرکٹ اور ڈویژنل عیسائی انسپکٹرس آف سکول نے بیسیوں شاندار ریمارکس سکول کی لاگ بک پر لکھے۔حضرت مصلح موعود کے مستورات میں درسِ قرآن اور تقاریر کا خلاصہ اکثر آپ ہی کے قلم سے سلسلہ کے جرائد ورسائل میں شائع ہوتا تھا۔آپ لائبریری امتہ الحی کی لائبریرین بھی رہیں نیز رجسر ممبرات برائے حاضری و چندہ جات اور کارگذاری اجلاسات بھی آپ کے سپرد ہوئی۔علاوہ ازیں لجنہ اماءاللہ کی طرف سے اعلانات ، مضامین اور سپاسناموں کے مسودہ جات آپ ہی تیار کرتی تھیں۔احمد یہ مستورات کے مخصوص رسالہ کا تخیل پیش کرنے والوں میں آپ ایک خاص امتیاز رکھتی تھیں۔نہایت اعلیٰ درجہ کی خوشخط تھیں اور نستعلیق خطر آجکل کے کئی کا تہوں سے اچھا تھا۔مگر کتابت نہیں کرتی تھیں۔آپ نے قرآن کریم از سر نو حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل سے پڑھا تھا۔آپ بیان فرماتی تھیں کہ جب گرلز سکول ابھی حضرت کے مکان پر ہی تھا۔آپ نے مجھے شاید دیہاتی لہجہ میں تلاوت کرتے سن لیا۔اس لئے حکم دیا کہ روزانہ نماز فجر کے معاً بعد جب میں واپس آؤں تو ایک رکوع مجھے سنا کر لڑکیوں کو پڑھایا کرو۔چنانچہ پہلے تو میں بطور فرض تعمیل کرتی رہی پھر ا سے خدا تعالیٰ کا خاص فضل اور موقع سمجھ کر بڑی با قاعدگی سے ترجمہ قرآن کریم پڑھ لیا۔اس وقت حضرت نواب مبار کہ بیگم بھی میری و ہیں ہم سبق تھیں۔اس لئے ان سے بطور بے تکلف سہیلی کے تعلقات ہو گئے اور پھر حضرت اماں جان کے پاس آنا جانا شروع ہوا۔کہا کرتی تھیں کہ میں نے گھنٹوں حضرت اماں جان کے پاس بیٹھ کر اردو ادب کی کتابیں انہیں پڑھ کر سنائی ہیں۔اس سے مجھے بے انداز فائدہ ہوا۔کیونکہ علامہ راشد الخیری اور ڈپٹی نذیر احمد دہلوی کے اخلاقی ناولوں میں جن عجیب و غریب اشیاء زیورات اور برتنوں کے نام آتے تھے وہ مجھے دیہاتی کو کہاں معلوم۔لیکن حضرت اماں جان ان کی شکل