تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 198 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 198

تاریخ احمدیت۔جلد 25 198 سال 1969ء طرح نصیب ہوئی تفصیل سے انہوں نے مندرجہ ذیل واقعہ سنایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شہرت تو پنجاب میں بہت تھی۔ان کے دعوی اور امام مہدی ہونے کا تذکرہ بالعموم رہتا۔جہلم بھی حضور کسی موقع پر تشریف لے گئے۔میں ان دنوں جہلم میں تھا۔اپنے کسی کام کے سلسلہ میں لاہور آیا تو ان دنوں مسافر مسجدوں میں جہاں جگہ ملتی سو جاتے اور اپنا کچھ وقت گزار لیتے۔جس مسجد میں میرا قیام تھا وہاں کے مولوی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر چھیڑ دیا اور اس ذکر میں اس نے کہا کہ ”مرزا کے ہاتھوں کو کوڑھ ہو گیا ہے اور بھی کچھ بد زبانی کی۔اس پر مجھے خیال آیا کہ لاہور تو آئے ہوئے ہیں قادیان بھی ہو آئیں۔وہاں چل کر مرزا صاحب کو بھی دیکھ لیں گے کیا ان کے ہاتھوں کو کوڑھ ہو گیا ہے۔وغیرہ۔آخر قادیان روانہ ہو گئے۔وہاں پہنچ کر مسجد میں نماز پڑھنے لگے۔حضور بھی مسجد میں تشریف لے آئے اور بعد نما ز مسجد میں آپ تشریف فرما ہوئے اور کچھ تقریر بھی فرمائی۔اسی دوران حضور اپنے ہاتھ کو بھی ہلاتے۔کبھی اونچا کرتے اور کبھی نیچا جیسا بعض اوقات مقرر ہاتھوں کو ہلاتا ہے۔ہماری توجہ ( بھائی صاحب نے بتایا کہ حضور کے ہاتھوں کی طرف رہی جو بہت صاف اور پیارے نظر آئے۔بعد میں جب حضور جانے لگے تو حضور سے مصافحہ بھی کیا اور لاہور کا قصہ بھی سنایا جس پر پھر حضور نے ہاتھ دکھائے۔ہماری تو تسلی ہوگئی کہ لاہور کا مولوی جھوٹ بولتا تھا۔ہر طرح حضور تو صاف ستھرے ہاتھوں والے نظر آئے۔حضور کو دیکھ کر اور آپ کی تقریر کو سن کر بالآخر قادیان کے قیام میں ہی بیعت بھی کر لی حضور کو دیکھ کر اور آپ کی باتوں سے متاثر ہوکر “ تینوں بھائی جب تک خاکسار کا نیروبی میں رہنا ہوا بہت محبت، پیار اور احترام سے ملتے رہے۔جزاھم اللہ واحسن الجزاء مختلف مواقع پر خدمت و تواضع بھی انہوں نے کی۔جنگ کے دنوں میں سپاہیوں کیلئے یونیفارم بنانے کا ٹھیکہ ملا۔فراخی ہوگئی اور خوب فراخی ہوئی۔حضرت استانی سکینۃ النساء صاحبہ اہلیہ حضرت قاضی محمد ظہور الدین العمل صاحب ولادت ۱۸۸۴ء بیعت : ۱۸۹۷ء وفات : ۲۰ مئی ۱۹۶۹ء 13 پ حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل کی اہلیہ تھیں۔آپ کا تعلق گولیکی ضلع گجرات کے ایک ممتاز علمی خاندان سے تھا۔آپ نے تعلیم اپنے والد حضرت پیرمحمد رمضان صاحب سے حاصل کی۔