تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 200 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 200

تاریخ احمدیت۔جلد 25 200 سال 1969ء اور استعمال واضح فرما دیتی تھیں۔بلکہ کئی ایک اشیاء کے لئے حضرت نانی اماں جیسی دتی کی بڑی بوڑھیوں سے دریافت کر کے مجھے سمجھا دیا کرتی تھیں۔حضرت نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ سلمہا اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث کو بھی بچپن میں ابتدائی جماعتوں کی پڑھائی اور لکھائی سکھانے کی سعادت حاصل ہوئی۔اسی طرح دیگر افراد خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایسے ہی علمی اور ادبی تعلقات تھے۔حضرت ام ناصر اور حضرت ام مظفر سلّمہا اللہ سے تو زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعلق تھا۔ان دونوں خواتین مبارکہ کی قیادت میں احمدی مستورات کی تنظیم و تعلیم و تربیت کا بڑا کام ہوا ہے۔14 آپ کے صاحبزادہ جنید ہاشمی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ آپ نے قادیان ہجرت کے بعد اپنی تمام تر صلاحیتیں اور اوقات سلسلہ کی خدمت میں وقف کر دیے۔پھر وہ اپنے گاؤں کبھی کبھار ہی جایا کرتی تھی حتی کہ اپنی والدہ ماجدہ کی وفات پر بھی نہیں گئی تھیں چنانچہ ایک مضمون میں جہاں ان کا طرز تحریر اور اسلوب بیان بھی نمایاں ہے وہاں یہ بات بھی واضح ہے کہ انہیں قادیان سے کتنا عشق تھا۔اس کا اقتباس درج ذیل ہے : ” آہ کیا مبارک وقت تھا کہ میں اپنی پیاری والدہ مغفورہ سے اجازت لے کر یہاں آئی جس کا میرے دل میں آرزو و شوق اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ اس فکر میں شبانہ روز گزرتا اور رور وکر دعائیں مانتی کہ بارالہی کب تیرے پیاروں کا کلام پاک سنگی اور کب یہ آرزو کروں گی کہ میرا انجام بخیر ہو۔آئی صرف چار دن کے لیے تھی مگر حضرت استاذی و مرشد و مولی خلیفہ اسیح کی بیش قیمت نصائح اور پیاری دل میں اثر کر دینے والی باتوں نے خدا کی قسم مجھے یہیں کا کر دیا۔آہ! میری والدہ مغفورہ کو میری جدائی کا بے حد صدمہ پہنچا جو مرتے دم تک ان کی زبان پہ جاری تھا مگر میں نے دین کو دنیا پر مقدم کیا۔آپ حضور کے حکم کے ماتحت محلوں میں جا کر بڑی عمر کی عورتوں کو نماز پڑھاتیں اور کے میں جاکر بڑی عمرکی عورتوں کونماز دیگر مسائل کا سبق دیتی تھیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے زمانہ میں مستورات کی تعلیم تنظیم کی جانب جب حضور نے توجہ فرمائی تو آپ کا نام اولین کا رکنوں میں سے تھا۔قادیان میں استانی جی کے نام سے مشہور تھیں اور دن رات تعلیم و تدریس اور تربیت ان کا کام تھا۔احمدی مستورات سے بڑے گہرے اور وسیع تعلقات تھے۔دور و نزدیک احمدی جماعت کی خواندہ مستورات میں سے ہر ایک کو جانتی تھیں اور ان سے تعلق بڑھانے میں کوشاں رہتی تھیں۔خصوصاً اردو زبان سے بے انتہا محبت ہونے کی وجہ سے دہلی ، یو۔پی کے اطراف کی خواتین کی گفتگو سننے کے لیے ان کے ہاں جا جا کر ملاقات کرتیں اور پھر