تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 8 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 8

تاریخ احمدیت۔جلد 25 قبول احمدیت 8 سال 1969ء حضرت حافظ صاحب کو ۱۸۹۲ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دامن سے وابستگی کی سعادت نصیب ہوئی چنانچہ آپ قبول احمدیت کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: محمد خان صاحب کپورتھلہ کے ایک بھائی پھوپھی زاد رسالدار میجر بہادر عبد الکریم خان شاہجہانپور میں تھے۔محمد خان نے ان کو تبلیغ کی اور حضرت صاحب کا تذکرہ ان تک پہنچایا۔عبدالکریم خان کی نظر میں اس وقت کوئی عالم حافظ سید علی میاں کے برابر نہیں تھا۔انہوں نے نہایت حقارت کے ساتھ محمد خان صاحب کے قول کو رد کیا اور کہا کہ حافظ سید علی میاں صاحب سے مباحثہ ہو تو حقیقت کھل جائے۔محمد خان صاحب کو بہت تعجب ہوا کہ اچھا یہ اتنے بڑے عالم ہیں کہ جن پر آپ کو اتنا اطمینان و اعتماد ہے۔اچھا میں کچھ کتابیں دیتا ہوں۔آپ کسی کتاب کا ان سے رد لکھا ئیں۔حسب وعدہ کتابیں انہوں نے شاہجہانپور بھیجیں۔یہ ۱۸۹۲ء کی بات ہے۔فتح اسلام، توضیح مرام، ازالہ اوہام اور ان کے علاوہ چھوٹے چھوٹے چند رسائل اور بھی تھے۔جیسے سچائی کا اظہار۔اور یہ کی کئی جلدیں تھیں۔بعض کی پیشانی پر حمد خان لکھا تھا اور بعض پر محمد روڑا۔ان کتابوں میں آئینہ کمالات اسلام بھی تھی لیکن اس وقت تک وہ شائع نہیں ہوئی تھی اور نہ مکمل تھی۔میں اس بیان سے کچھ عرصہ قبل بریلی میں اندر من مراد آبادی کی کتابوں میں چند اعتراضات پڑھ چکا تھا۔ان میں سے یہ اعتراض مجھے بہت بے چین کرنے کا موجب ہوا کہ قرآن شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لفظ ضال موجود ہے۔میں نے اپنے اس زمانہ کی حالت کے مطابق بہت کوشش کی کہ مجھے اس کا صحیح حل معلوم ہو جائے۔کتا میں بھی بحث مباحثات کی جو اندر من مراد آبادی اور مولوی محمد علی ساکن بچھراؤں ضلع مراد آباد کی تصانیف سے تھیں اسی غرض سے میں نے دیکھیں مگر کوئی تسلی بخش بات مجھے معلوم نہ ہوئی۔جب محمد خان صاحب کی بھیجی ہوئی کتابیں عبد الکریم خان صاحب رسالدار میجر بہادر کے ہاں پہنچیں تو وہ اس وقت میرے مکان پر تھے اور میرا ایک پاؤں جو کسی عارضہ کی وجہ سے سن ہو گیا تھا، ہل رہے تھے۔خادم نے اطلاع دی تو انہوں نے کتابیں منگوائیں جو ایک بورے میں تھیں میں چونکہ ابتدائے عمر سے مذاہب مختلفہ کی کتابیں دیکھنے کی عادت رکھتا تھا۔اس لئے میں نے بہت شوق کے ساتھ وہ کتابیں اپنے قریب ایک سٹول پر رکھوائیں اور اپنے ہاتھ سے اس کی متلی کاٹی اور بورا کھولا۔سب سے پہلے جن اوراق پر میرا ہاتھ