تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 9
تاریخ احمدیت۔جلد 25 9 سال 1969ء پڑا وہ آئینہ کمالات اسلام کے اجزاء تھے۔کتاب بالکل تازہ چھپی ہوئی تھی۔جس سے روشنائی کی بو آتی تھی اور ابھی خشک بھی نہیں ہونے پائی تھی۔اس کا کاغذ نہایت سفید اور روشنائی نہایت سیاہ چمکدار تھی۔سب سے پہلے جو صفحہ میرے سامنے آیا اس پر موٹے قلم سے لکھا تھا وَوَجَدَكَ ضَائًا فَهَدى (الضحی : ۸) اور یہ وہی چیز تھی جس کا میں دنوں سے متلاشی تھا۔میں نے وہیں سے پڑھنا شروع کر دیا اور آخر تک پڑھ گیا اور مجھے وہ راحت، فرحت اور سرور حاصل ہوا جو الفاظ میں بیان نہیں ہوسکتا۔جو صاحب اس سے حصہ لینا چاہیں وہ اس موقعہ کو پڑھیں۔اس مضمون نے میرے دل میں یہ امر راسخ کر دیا کہ صاحب مضمون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشق کے اس درجہ پر پہنچے ہوئے ہیں جس کی نظیر موجودہ لوگوں میں نہیں مل سکتی۔صرف اس ایک بات نے مجھے آپ کے راستباز اور صادق مان لینے پر مجبور کر دیا۔میری راہ میں نہ تو حیات و ممات کا مسئلہ حارج ہوا اور نہ ان کے نزول کا۔میں اسی وقت سے اپنے آپ کو آپ کے حلقہ بگوشوں میں شمار کرنے لگا اور پھر میں نے آئینہ کمالات اسلام کے وہ باقی اجزاء جن کا میں ذکر کر چکا ہوں از اول تا آخر پڑھے۔انہوں نے میرے خیالات کو بہت پختہ کر دیا۔کیونکہ وہ ساری کی ساری کتاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محامد اور اوصاف سے پُر ہے۔اس رنگ میں کہ نہ اس سے پہلے میں نے یہ انداز کسی کی تصنیف میں پایا اور نہ ہی 66 اس کے بعد۔جناب با بونذیر احمد صاحب امرتسری مقیم لاہور کی روایت کے مطابق حضرت حافظ صاحب نے انہی ایام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک مرتبہ بتایا کہ مجھے علم ہوا کہ والد صاحب بھی بعد مطالعہ کتب وفات مسیح کے قائل ہو چکے ہیں یہی ایک اختلافی مسئلہ اس زمانہ میں بہت بڑی روک تھا۔باقی مسائل ابھی پیدا نہ ہوئے تھے۔مجھے از حد خوشی ہوئی جب کہ والد صاحب نے شاہجہانپور کے لوگوں کو یہ بتانا شروع کر دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔انہی دنوں شاہجہانپور کے ایک معزز شخص نے حضرت والد صاحب کی دعوت کی مجلس میں آپ کا تبادلہ خیال وفات مسیح کے موضوع پر ایک اور نامی عالم سے ہوا۔دعوت میں جو لوگ شریک تھے ان میں سے تقریباً چھپیں آدمیوں نے اظہار کیا کہ آج سے وفات مسیح کے ہم بھی قائل ہو گئے ہیں۔اسی طرح ایک اور مجلس میں بھی حضرت والد صاحب کے بیان کردہ زبر دست دلائل کی وجہ سے ایک درجن لوگ وفات مسیح کے قائل ہو گئے۔والد صاحب نے بعدۂ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے