تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 7 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 7

تاریخ احمدیت۔جلد 25 7 سال 1969ء شاہجہانپور کے اولین احمدی احباب یہاں یہ ذکر کیا جانا مناسب ہوگا کہ شاہجہانپور کے اولین احمدی تین بزرگ تھے جن کے نام رجسٹر بیعت اولیٰ میں ۳۳۷ / اور ۳۴۷ تین سو سنتالیس نمبر کے تحت درج ذیل الفاظ میں موجود ہیں :۔۳۳۷ ”مولوی غلام امام عزیز الواعظین ابن شاہ محمد بن محمودشاہ ساکن جہان پوری حال منی پور ۳۴۷- امام بخش ساکن شاہ جہان پور حال منی پور معرفت مولوی غلام امام صاحب۔نبی بخش ولد مولا بخش ساکن شاہ جہان پور حال مقام نا گا پھل رجسٹر میں ان کی تاریخ بیعت ۲۷ جون ۱۸۹۲ء درج ہے۔اس کے بعد ۲۸ نومبر ۱۸۹۲ء تک نومبائعین کے تاریخ وار نام ہیں مگر ان میں حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب کا نام نہیں جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ کی بیعت اس کے بعد ۲۹ نومبر سے ۳۱ دسمبر ۱۸۹۲ء کے دوران ہوئی۔جماعت شاہجہانپور کے قدیم فدائیوں اور مخلصوں میں حضرت شیخ مسیح اللہ صاحب شاہجہانپوری بالخصوص قابل ذکر ہیں جن کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ضمیمہ انجام آتھم میں ۳۱۳ اصحاب کبار کی تاریخی فہرست میں صفحہ ۴۲ پر زیر نمبر ۷۵ رقم فرمایا ہے۔آپ کا انتقال۷۰ سال کی عمر میں 4 نومبر ۱۹۰۶ء کو ہوا اور بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن کئے گئے۔قریباً سوا سال بعد حضرت حاجی فضل حسین صاحب شاہجہانپوری ۲۹ فروری ۱۹۰۸ء کو انتقال کر گئے۔آپ بھی بہشتی مقبرہ کی مقدس خاک میں ابدی نیند سورہے ہیں۔آپ کا مزار حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے قدموں میں ہے یہ دونوں بزرگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں ہی مستقل ہجرت کر کے قادیان دارالامان میں آگئے تھے اور ان خوش نصیبوں میں سے تھے جن کی نماز جنازہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پڑھائی۔ان کے علاوہ قدرت اللہ صاحب شاہجہانپوری ، قاسم علی صاحب معمار، شیخ فرزند علی صاحب ، میاں مولا بخش صاحب اور میاں علی جان صاحب سول سرجن کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کرنے کا شرف حاصل تھا۔مگر یہ سب بزرگ حضرت حافظ 14 سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری کے بعد حضرت امام الزمان کے دامن سے وابستہ ہوئے۔