تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 160
تاریخ احمدیت۔جلد 25 160 سال 1969ء عزم اور ہمت پیدا کر دے۔اور جس طرح خلیفہ وقت کا یہ کام ہے کہ تمکین دین ہو وہ اس کے لئے ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد اور ہمت اور عزم رکھنے والا بازو بن جائے۔وہ بھی اور اس کے ماتحت تنظیم بھی اور اس طرح اپنی اپنی جگہ ایک ایسی تنظیم قائم ہو جائے کہ جس کے ذریعہ سے علاوہ اور ذرائع کے خلیفہ وقت جماعت کے خوف کو امن سے بدلنے والا اور دشمنوں کے جھوٹے امن کو حقیقی خوف میں تبدیل کرنے والا ہو۔اللہ تعالیٰ کا اب تک یہ فضل رہا ہے۔امید ہے کہ انشاء اللہ ایک لمبے عرصے تک یہ فضل رہے گا اور یہ جماعت سرداروں اور قائدین کی جماعت رہے گی۔اس جماعت میں کسی خاندان کی اجارہ داری مقرر نہیں کی گئی۔اس میں ایک ہی اصول مقرر کیا گیا ہے جسے قرآن کریم نے اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ آتُفيكُمْ (الحجرات: ۱۴) کے الفاظ میں بتایا تھا پس جو تقویٰ کے علاوہ کسی اور عزت کا خواہاں ہے وہ جاہل ہے یاوہ مفسدانہ خیالات رکھنے والا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا مرکزی اجتماعات پر تبصرہ 146 سید نا حضرت خلیفہ امسح الثالث نے ۳۱ اکتو بر ۱۹۶۹ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔ہمارے یہ اجتماع بھی اللہ تعالیٰ کے پیہم نازل ہونے والے فضلوں اور رحمتوں کے نتیجہ میں گذشتہ اجتماعوں کی نسبت زیادہ با رونق رہے اور پہلے سے زیادہ بابرکت ثابت ہوئے اور ان میں شرکت کرنے والوں کو نئی زندگی سے ہمکنار کرنے کا موجب بنے۔لیکن جہاں تک ان اجتماعات کا تعلق ہے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔سب سے زیادہ مجالس کی نمائندگی انصار اللہ کے اجتماع میں رہی۔اُس میں ۳۵۶ مجالس کے نمائندگان نے شرکت کی۔تاہم شرکت کرنے والی مجالس کی یہ تعداد بہت نا کافی ہے کیونکہ مجالس کی تعداد ایک ہزار ہے ہمارا مقصد صرف اس وقت حاصل ہوسکتا ہے کہ جب ان اجتماعات میں کم از کم ہر مجلس کی نمائندگی ضرور ہو۔یہ کم سے کم معیار ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ترقی کے مدارج میں سے ہوتے ہوئے ابھی کم سے کم معیار تک بھی نہیں پہنچے ہیں۔حضور نے نئی نسلوں کی تربیت پر خاص زور دیتے ہوئے مجالس اطفال الاحمدیہ ، خدام الاحمدیہ اور جماعتی تنظیم کو اس کی نہایت عظیم اور اہم ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی۔اس ضمن میں حضور نے ایک