تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 159 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 159

تاریخ احمدیت۔جلد 25 159 سال 1969ء والسلام کا اپنی اولاد سے اصل تعلق روحانی تعلق ہی ہے۔اسی واسطے کہا گیا ہے کہ انبیاء نہ کسی کے وارث ہوتے ہیں نہ آگے ورثہ میں کسی کو کچھ دیتے ہیں کیونکہ ورثہ کا تعلق جسمانی قرابت سے ہے اس کی نفی کر دی گئی ہے لیکن جہاں تک روحانی فیوض و برکات کا تعلق ہے وہی حقیقت ، وہی صداقت اور وہی حکمت ہے۔وہی دراصل صحیح معنی ہیں کسی شخص کی روحانی اولاد ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو اس کی منشاء اور فرمان کے مطابق قائم کیا اور ہر شخص اپنے اخلاص اور ایثار کے مطابق اپنا اجر پاتا ہے خدام الاحمدیہ نے خاصی ترقی کی ہے لیکن پہاڑوں کی بلند چوٹیوں کی طرح خدام الاحمدیہ کے لئے کوئی ایک چوٹی مقرر نہیں کہ جہاں جا کر وہ یہ سمجھیں کہ بس اب ہم آخری بلندی پر پہنچ گئے۔ہمارا کام ختم ہو گیا۔یہ تو ایسے پہاڑ کی چڑھائی ہے کہ جس کی چوٹی کوئی ہے ہی نہیں کیونکہ یہ وہ پہاڑ ہے جس کے اوپر عرش رب کریم ہے اور انسان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ غیر محدود ہے اور ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے اور اسی میں ہماری زندگی اور حیات ہے کہ ہم کسی جگہ پر تھک کر بیٹھ نہ جائیں یا کسی جگہ ٹھہر کر یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے جو حاصل کرنا تھا وہ کرلیا۔نہیں۔ہمارے لئے غیر محدود ترقیات اور رفعتیں مقدر کی گئی ہیں اور اگر ہم کوشش کریں اور واقعہ میں اللہ تعالیٰ ہمارے دل میں اخلاص اور ایثار اور محبت ذاتی اپنے لئے محسوس کرے تو وہ ہم پر فضل نازل کرتا چلا جائے گا اور کرتا چلا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں انسان خدا تعالیٰ سے اور زیادہ پیار حاصل کرتا ہے اور اپنے نفس سے وہ اور زیادہ دور اور بیگا نہ ہو جاتا ہے۔پس کام ہوا اور بڑا اچھا کام ہوا۔انشاء اللہ آگے بھی کام ہوں گے اور بڑے اچھے ہوں گے اور تنظیمی لحاظ سے ہم کچھ اور بلند ہو جائیں گے لیکن چوٹی پر نہیں پہنچ سکتے کہ جس کے بعد ہم سمجھ لیں کہ بس اب ہمارا کام ختم ہو گیا۔کیونکہ جہاں بھی ہم کھڑے ہوئے وہاں ہم گرے اور ہلاک ہوئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس لغزش اور اس ہلاکت سے محفوظ رکھے اور اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے کہ ہمارے جیسے کمزور بندوں میں سے جس کو بھی کسی تنظیم کی قیادت نصیب ہو وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق اور مدد سے اس کا اہل ثابت ہو اور اللہ تعالیٰ اس کے ذہن میں چلا پیدا کر دے۔اس کے دل میں ایک