تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 130
تاریخ احمدیت۔جلد 25 130 سال 1969ء انسانیت اپنی بیشتر قد رکھورہی ہے۔یہ اہم سوال اٹھتا ہے کہ انسانیت کا آخر کیا انجام ہوگا ؟ ہر جگہ تباہ کن قوتیں دندناتی پھر رہی ہیں۔ظلم، انتقام، جبر اور بغاوت جدید طرز زندگی کی رگوں میں دوڑ رہا ہے۔معاشرتی امن وسکون قصص پارینہ ہیں یا مستقبل بعید کی خام خیالیاں۔ایک اداس کر دینے والی بے چینی دنیا پر چھا چکی ہے جس کے سائے ہر گزرتے گھنٹہ کے ساتھ گہرے ہوتے چلے جارہے ہیں۔عنقریب نازل ہونے والے مصائب دھند کی طرح ہوا میں معلق ہیں۔مذہبی اور اخلاقی ضابطے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔بلکہ نہیں۔ان کو تو ہنسی اور مذاق کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔اچھے اخلاق اور شریفانہ رویوں کی پرانی قدیم روایات پراگندہ کر دی گئی ہیں اور باقی ماندہ صرف انسان کی ہزاروں سالہ ثقافتی ارتقاء کے ملبہ کا ڈھیر ہے۔آزادی کو لاقانونیت خیال کیا جانے لگا ہے اور ہر طرف افرا تفری کا عالم ہے۔انسانیت سر کے بل اخلاقی انتشار میں گرتی چلی جارہی ہے۔مذہبی اور اخلاقی اقدار سے محروم ہونے کے بعد انسان کا معاشرتی ارتقاء جس جگہ اب کھڑا ہے، یہ اب دوبارہ ابتدائی انسانی ایام کی اتھاہ گہرائیوں میں ایک زبر دست چھلانگ لگانے کو ہے۔اس لمبی اور افسوس ناک کہانی کا اختصار یہ ہے کہ در حقیقت ہم انسان کے دوبارہ بندر جیسی زندگی کے ابتدائی مراحل میں تبدیل ہو جانے کے مکروہ رجحان کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔قرآن کریم کی آیت میں مذکور الہی سزا کہ ذلیل بندر بن جاؤ“ (البقرہ: ۶۶) ، پہلے ہی تعمیل کے مراحل سے گذر رہی ہے۔میرے اسلامی بھائیو اور وفادار دوستو ! یہ وہ ابتر حالات ہیں جنہیں دوبارہ درست کرنے کی ذمہ داری تمہیں سونپی گئی ہے۔برائی کی یہ وہ زبر دست قو تیں ہیں جن کے خلاف تم نے برسر پیکار ہونا ہے، ان پر غلبہ پانا ہے، انہیں شکست دینا ہے اور اپنے پاؤں کے نیچے روند ڈالنا ہے۔بھاری مشکلات آپ کے سامنے ہیں۔انسانیت تو پہلے ہی ڈوبتی ہوئی نظر آ رہی ہے لیکن پھر بھی نہ تو صورتحال اتنی گھمبیر ہے اور نہ ہی