تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 131
تاریخ احمدیت۔جلد 25 131 سال 1969ء مصائب اس قدر ہیں جتنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بظاہر ایک ناممکن کام کو سر انجام دینے کے لئے قدم بڑھایا اور اسے کر دکھایا۔اگر تم ان (ﷺ) کے (اس طور سے ) حقیقی پیروکار ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت، استقامت، ہمت ، جوش و جذ بہ اور دانگی ومسلسل دعاؤں کا عشر عشیر بھی تم میں موجود ہے تو یہ یقین کرلو کہ کبھی بھی رکا وٹیں تمہیں منزل کی طرف قدم بڑھانے سے روک نہیں سکتیں۔وہ آسانی کے ساتھ تمہارے سامنے تحلیل ہوتی جائیں گی۔اس قسم کے معجزات پہلے بھی وقوع پذیر ہو چکے ہیں اور آئندہ بھی رونما ہوں گے لیکن شرط یہ ہے کہ تم نبی اسلام ﷺ کے نقش قدم پر چلو۔اسلام اور صرف اسلام ہی انسانیت کو آخری تباہی سے بچا سکتا ہے۔وہ مرہم جو زخمی انسانی دلوں کے دردوں کو کم کر سکتا ہے اور شفا دے سکتا ہے،صرف اور صرف اسلام ہے۔وہ امن جو قوموں اور نظریاتی جھگڑوں کے بحران کو ہمیشہ کے لئے سکون مہیا کر سکتا ہے، وہ صرف اسلام ہی کا امن ہے۔اسلام امن کا علمبر دار ہے، اس کا مطلب امن ہے اور امن کے لئے موزوں فضاء پیدا کرنے کی ہمیشہ کوششیں کرتا رہتا ہے۔اگر آپ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے بچے خدام ہیں تو آپ کا سب سے بڑا فرض یہ ہے کہ آپ بھر پور ہمت اور استقامت کے ساتھ امن کے مقاصد کے لئے ، جیسا کہ اسلام کی اصطلاح سے سمجھا گیا ہے، کام کریں۔اس (امن ) کا مطلب صرف جنگ یا سیاسی بدظمی کا نہ ہونا ہی نہیں ہے۔اس کا مطلب ہے کہ انسان کا اپنے نفس میں مطمئن ہونا، اپنے خاندان، دوستوں اور ماحول میں پُر امن ہونا ، تمام انسانیت کے ساتھ پر امن، اور کائنات کے خالق و مالک کے ساتھ امن میں ہونا۔اللہ آپ کو یہ مقدس کام ، جس حد تک کامل ہوسکتا ہو ، پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جس جگہ بھی آپ ہوں امن کے پیغامبر بنیں اور امن کے عظیم پیغمبر کے حقیقی خدام ثابت ہوں۔انتہائی محبت و تعظیم کے ساتھ“